تفصیلات کے مطابق تین امریکی اور ایک کینیڈین خلا باز، خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کے ایک بڑے راکٹ پر سوار ہو کر چاند کے گرد مدار میں گردش کے دس روزہ سفر پر روانہ ہوئے ہیں۔

دیوہیکل نارنجی اور سفید رنگ کا راکٹ مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 6 بج کر 35 منٹ پر امریکی ریاست فلوریڈا میں واقع کینیڈی اسپیس سینٹر سے لانچ کیا گیا۔

مشن پر روانہ ہونے والے خلا بازوں میں مشن کمانڈر ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوک اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے جیریمی ہینسن شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں اس کامیاب لانچ کو ایک بڑا سنگ میل قرار دیتے ہوئے خلا بازوں کی بہادری کو سراہا۔

خلاباز اس وقت زمین کے گرد مدار میں موجود ہیں، جہاں وہ انسانوں کو خلا میں لے جانے والے اس خلائی جہاز کی کارکردگی اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف ٹیسٹ کر رہے ہیں۔ اس دوران ڈاکنگ مشقوں کے ذریعے جہاز کو خود چلانے کی صلاحیتوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

ناسا کے معاون منتظم امت کشتریہ کے مطابق ابتدائی مرحلے میں مشن کے دوران چند معمولی تکنیکی مسائل کی نشاندہی ہوئی تھی، تاہم انہیں بروقت حل کر لیا گیا۔

دوسری جانب جیرڈ آئزک مین نے خلائی جہاز کے ساتھ رابطے میں پیش آنے والے ایک عارضی مسئلے کا بھی ذکر کیا، جسے بعد ازاں درست کر لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام خلا باز محفوظ ہیں، خیریت سے ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔

واضح رہے کہ یہ مشن چاند پر لینڈنگ (اترنا) نہیں کرے گا، بلکہ چاند کے گرد چکر لگا کر واپس زمین پر آئے گا۔ اسے فری ریٹرن ٹریجیکٹری کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ چاند کی کششِ ثقل خود بخود جہاز کو زمین کی طرف واپس موڑ دے گی۔

 یہ جہاز چاند کے دوسری طرف سے گزرتے ہوئے زمین سے تقریباً 248,655 میل دور جائے گا، جو انسانی تاریخ میں اب تک کا سب سے زیادہ فاصلہ ہو گا۔ واپسی پر اس کی رفتار 25,000 میل فی گھنٹہ تک پہنچ جائے گی۔

اس مشن کی کامیابی کے بعد آرٹیمس 3 اور 4 کے ذریعے انسانوں کو دوبارہ چاند کی سطح پر اتارنے اور وہاں مستقل رہائشی اڈے  بنانے کی تیاری کی جائے گی۔

یاد رہے کہ یہ 1972 کے بعد (تقریباً 53 سال بعد) پہلا موقع ہے کہ انسان زمین کے مدار سے نکل کر چاند کی جانب سفر کر رہا ہے۔