جاپان کے وزیرِ ڈیجیٹل امور ہیساشی ماتسوموتو نے خبردار کیا ہے کہ اگر جاپان نے اے آئی کی ترقی میں رفتار برقرار نہ رکھی تو وہ مستقبل میں ایک "اے آئی کالونی" بن سکتا ہے۔

انہوں نے یہ بیان ایک ایسے مجوزہ قانون کے دفاع میں دیا جس کے تحت اے آئی ڈویلپرز کو بعض حساس ڈیٹا، جیسے طبی اور مجرمانہ ریکارڈز، افراد کی پیشگی اجازت کے بغیر ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

وزیرِ ڈیجیٹل امور کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے کہ جاپان کے پاس پیچھے رہنے کی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک نے بروقت سرمایہ کاری اور ترقی پر توجہ نہ دی تو اسے مستقبل میں بیرونی ٹیکنالوجی پرانحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس مجوزہ بل پر جاپان میں بحث جاری ہے۔ بعض اپوزیشن جماعتوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حساس معلومات کے استعمال سے ڈیٹا لیک اور رازداری کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی مقابلے میں برقرار رہنے کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں۔

یہ بل جاپان کے ایوانِ زیریں سے منظور ہو چکا ہے اور اب ایوانِ بالا میں زیرِ غور ہے. جاپان گزشتہ کچھ عرصے سے مقامی اے آئی صنعت کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے۔ حکومت سبسڈیز، سرکاری خریداری کے منصوبوں اور قانونی اصلاحات کے ذریعے مقامی کمپنیوں کو سپورٹ فراہم کر رہی ہے، جبکہ ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ تعاون بھی بڑھایا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق جاپان کی یہ تشویش دراصل دنیا کے کئی ممالک کی مشترکہ فکر بن چکی ہے۔ یورپ سمیت مختلف خطوں میں حکومتیں اب "ٹیکنالوجی خودمختاری" کی بات کر رہی ہیں تاکہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ سروسز اور سیمی کنڈکٹرز کے لیے مکمل طور پر بیرونی طاقتوں پر انحصار نہ کرنا پڑے۔

جاپان کی وارننگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے برسوں میں اے آئی صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں رہے گی، بلکہ معاشی طاقت، قومی خودمختاری اور عالمی اثر و رسوخ کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ ایسے میں سوال صرف یہ نہیں کہ اے آئی کون بنائے گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ مستقبل کے قواعد کون طے کرے گا۔