تفصیلات کے مطابق ایک تقریب کے دوران ناسا کے منتظم جیراڈ آئزک مین نے بتایا کہ چاند پر بیس کی تعمیر فوری طور پر ممکن نہیں، بلکہ آئندہ سات برسوں میں تقریباً 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے اسے مکمل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ درجنوں خلائی مشنز کے ذریعے پایۂ تکمیل تک پہنچے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ناسا نے چاند کے مدار میں اسپیس اسٹیشن بنانے کے منصوبے کو ختم کر دیا ہے، جب کہ مریخ کے لیے جوہری توانائی سے چلنے والے اسپیس کرافٹ کی تیاری جاری ہے، جسے 2028 تک روانہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
BREAKING: NASA Administrator Jared Isaacman announces plans to build a PERMANENT U.S. base on the Moon—the plan rolls out in three phases: rover and tech deployments, semi-habitable infrastructure for astronauts, and ultimately a permanent human presence on the lunar surface.… pic.twitter.com/5wansZv09f
— Breaking911 (@Breaking911) March 24, 2026
جیراڈ آئزک مین کا کہنا تھا کہ چین خلائی تحقیق کے میدان میں تیزی سے پیشرفت کر رہا ہے اور وہ خلا میں امریکی برتری کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1960 کی دہائی میں ناسا نے ناممکن کو ممکن بنا کر چاند پر انسان کو پہنچایا تھا، اور اب ایک بار پھر چاند پر نئی بیس کی تعمیر کے ذریعے ایک بڑا سنگِ میل حاصل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ہیرو سپلینڈر الیکٹرک 2026: کم قیمت، زیادہ رینج والی بائیک تیار
ان کے مطابق، مریخ کے لیے جوہری توانائی سے چلنے والا اسپیس کرافٹ "ری ایکٹر 1 فریڈم" جب وہاں پہنچے گا تو سیارے کے مزید راز جاننے کے لیے ہیلی کاپٹرز بھی چھوڑے گا۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ چاند کی سطح پر خلا بازوں کی واپسی میں کچھ تاخیر کا سامنا ہے، کیونکہ اسپیس ایکس تاحال ناسا کے لیے مطلوبہ لینڈرز تیار نہیں کر سکی۔







