ہواوے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کمپنی نے چِپ ڈیزائننگ کے لیے ایک نیا اصول متعارف کرایا ہے جسے “ٹاؤ اسکیلنگ لا” کا نام دیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر انڈسٹری اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں صرف ٹرانزسٹرز کو مزید چھوٹا کرنا کافی نہیں رہا، اسی لیے نئی تکنیکی حکمتِ عملی کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔
یہ اہم اعلان شنگھائی میں منعقدہ 2026 آئی ٹرپل ای انٹرنیشنل سمپوزیم آن سرکٹس اینڈ سسٹمز (آئی ایس سی اے ایس) کے دوران کیا گیا، جہاں ہواوے کے سیمی کنڈکٹر بزنس کے صدر اور سائنٹسٹ کمیٹی کے ڈائریکٹر ہی ٹنگبو نے “نیو سیمی کنڈکٹر پاتھ اِن پریکٹس” کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کمپنی کی نئی چِپ حکمتِ عملی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
یاد رہے اگر ہواوے اپنے ہدف میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ پیش رفت عالمی چِپ انڈسٹری میں ایک بڑی تبدیلی تصور کی جائے گی، کیونکہ 1.4 نینو میٹر ٹیکنالوجی کو آئندہ دہائی کے اختتام تک دنیا کی جدید ترین سطح سمجھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ چند برسوں کے دوران چین پر جدید لیتھوگرافی مشینوں، سیمی کنڈکٹر آلات اور دیگر حساس ٹیکنالوجیز کی فراہمی پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان پابندیوں کا مقصد چین کی جدید چِپ سازی کی صلاحیت کو محدود کرنا بتایا جاتا ہے۔
اس صورتحال کے باوجود ہواوے نے اپنی نئی حکمتِ عملی کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ کمپنی روایتی مینوفیکچرنگ طریقوں سے ہٹ کر نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے چِپ کارکردگی میں بہتری لانے پر توجہ دے رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق ٹاؤ اسکیلنگ لا کا بنیادی مقصد چِپس کے اندر سگنلز اور ڈیٹا کی منتقلی کے وقت کو کم کرنا ہے، تاکہ کم وسائل کے باوجود زیادہ رفتار اور بہتر کارکردگی حاصل کی جا سکے۔ ہواوے کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے جدید آلات تک محدود رسائی کے باوجود چِپس کی مجموعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
مزید پڑھیں: اینویڈیا کا شاندار آمدنی کا ریکارڈ؛ سی ای او جینسین ہوانگ کا نئی ویرا چپ اور اے آئی مارکیٹ میں برتری کا عزم
ہواوے نے مزید انکشاف کیا کہ 2026 کے آخر میں متعارف کرائے جانے والے کیرن چِپس میں پہلی بار “لاجک فولڈنگ” نامی نئی آرکیٹیکچر استعمال کی جائے گی، اس ٹیکنالوجی سے چِپس کے اندر وائرنگ کا فاصلہ کم ہوگا، ڈیٹا ٹرانسفر تیز ہوگا اور توانائی کی بچت کے ساتھ کارکردگی میں بھی خاطر خواہ بہتری آئے گی۔
کمپنی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 6 برسوں کے دوران ٹاؤ اسکیلنگ لا کی بنیاد پر 381 مختلف چِپس ڈیزائن اور بڑے پیمانے پر تیار کی جا چکی ہیں، جنہیں اسمارٹ فونز، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور دیگر جدید ٹیکنالوجی شعبوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ اگر ہواوے اپنے منصوبے میں کامیاب رہتی ہے تو یہ نہ صرف چین کی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کے لیے بڑی کامیابی ہوگی بلکہ عالمی چِپ مارکیٹ میں امریکا اور چین کے درمیان جاری ٹیکنالوجی مقابلے کو بھی نئی جہت مل سکتی ہے۔







