گیتا جی پی ٹی کسی عام چیٹ بوٹ کی طرح محسوس ہوتا ہے ،فرق صرف یہ ہے کہ یہاں صارف کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ خود بھگوان کرشن سے بات کر رہا ہو جو گیتا کی تعلیمات کی بنیاد پر زندگی کے مسائل پر رہنمائی اور مشورے فراہم کرتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اس چیٹ بوٹ کو راجستھان سے تعلق رکھنے والے ایم بی اے کے طالب علم وکاس ساہو نے بنایا ہے۔
وکاس کے مطابق چند ہی دنوں میں ایک لاکھ سے زائد صارفین نے اس بوٹ کو استعمال کیا، جس کے بعد انہوں نے اپنی تعلیم ترک کر کے مزید مذہبی چیٹ بوٹس بنانے کے لیے سرمایہ کاری حاصل کرنا شروع کر دی۔
خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے وجے میل نامی ایک صارف نے بتایا کہ میں روحانی رہنماؤں سے مشورہ کیا کرتا تھا، مگر حالیہ دنوں میں اس نے اپنی پریشانیوں کا حل گیٹا جی پی ٹی سے پوچھاتو اس نے جواب دیاکہ اپنے اعمال پر توجہ دو، اس کے پھل کی فکر مت کرو۔
اس کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات میں پہلے سے جانتا تھا، مگر اس لمحے مجھے کسی کی ضرورت تھی جو مجھ سے یہ بات دہرا دے۔ اس جواب نے میرا حوصلہ بڑھایا، خیالات کو سنبھالا اور دوبارہ تیاری کی طاقت دی۔
رپورٹ کے مطابق، انڈیامیں صرف گیتا جی پی ٹی ہی نہیں بلکہ دیگر ہندو مذہبی متون پر مبنی چیٹ بوٹس بھی تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، جن میں بھگوان کرشن سے رابطے کا دعویٰ کرنے والے بوٹس بھی شامل ہیں۔ خاص طور پر نوجوان نسل ایسے اے آئی پلیٹ فارمز کے ذریعے روحانی تسکین یا مذہبی رہنمائی حاصل کرنے کے خواہشمند نظر آتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی مذہبی اور روحانی چیٹ بوٹس کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ 2023 میں ٹیکسٹ وِد جیسس نامی ایپ سامنے آئی تھی، جو بائبل کے کرداروں پر مبنی اے آئی تصاویر اور بات چیت کی سہولت دیتی ہے، تاہم اس پر توہینِ مذہب کے الزامات بھی عائد ہوئے۔
اسی طرح قرآن جی پی ٹی کے نام سے بھی ایک ایپ متعارف کرائی گئی ہے، جو قرآنِ پاک کی تعلیمات کی بنیاد پر سوالات کے جوابات اور رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
اس کے علاوہ مشرقی فلسفے اور عیسائیت پر مبنی چیٹ بوٹس میں کنفیوشس، مارٹن لوتھر اور رامنہ مہارشی جیسے فلاسفروں و مذہبی رہنماؤں کی تعلیمات پر مبنی اے آئی ماڈلز بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔







