یہ لیبارٹری ایڈوانس روبوٹکس سسٹمز پر مبنی ہے، جہاں روبوٹس کیمیکل مکسنگ، سیمپلز کی منتقلی، اور لیبارٹری آلات کے آپریشن جیسے کام انجام دیتے ہیں۔

اس منصوبے میں “مہولو لیب ڈرائیڈ” نامی ہیومنائیڈ روبوٹس استعمال کیے جا رہے ہیں، جو باریک اور بار بار دہرائے جانے والے لیبارٹری ٹاسکس مکمل کرتے ہیں۔

یہ روبوٹس مستقل رفتار اور درستگی کے ساتھ کام کرتے ہیں اور انہیں آرام یا وقفے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

خودکار لیبارٹریوں کا مقصد سائنسی تحقیق میں انسانی غلطیوں کو کم کرنا اور تجربات کی رفتار بڑھانا ہے۔

اس قسم کے سسٹمز فارماسیوٹیکل ریسرچ، میٹریل سائنس، اور کیمیکل تجربات میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق AI اور روبوٹکس پر مبنی لیبارٹریاں بڑے ڈیٹا کا تجزیہ تیزی سے کرنے اور تجربات کو مسلسل چلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

جاپان اس وقت مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے میدان میں سرمایہ کاری اور تحقیق بڑھانے والے نمایاں ممالک میں شامل ہے۔

تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں AI سسٹمز تجربات کے ڈیزائن، نتائج کے تجزیے، اور نئی تحقیق کی نشاندہی جیسے مراحل میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔