میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور چین جدید ترین مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طاقتور اے آئی ماڈلز مستقبل میں پیچیدہ سائبر حملوں کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں، جس کے باعث امریکی حکومت نے جدید اے آئی ماڈلز کی ریلیز پر نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی نے جی_پی_ٹی 5.6 تک ابتدائی رسائی صرف چند منتخب اور تصدیق شدہ شراکت داروں تک محدود رکھی تھی، جن کی تفصیلات بھی متعلقہ حکام کے ساتھ شیئر کی گئی تھیں۔ اضافی جانچ پڑتال اور حکومتی مشاورت کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ماڈل کی وسیع پیمانے پر ریلیز کی منظوری دے دی۔

اوپن اے آئی نے ایکس پر اعلان کیا ہے کہ کمپنی اپنے سب سے طاقتور ماڈل جی_پی_ٹی5.6 کے ساتھ کم لاگت والے ٹیرا اور لونا ماڈلز بھی متعارف کرائے گی۔ کمپنی کے مطابق نئے ماڈلز میں کوڈنگ، حیاتیات اور سائبر سکیورٹی سے متعلق خودکار صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا گیا ہے۔

ادھر اوپن اے آئی کی حریف کمپنی اینتھروپک نے گزشتہ ماہ امریکی برآمدی پابندیوں کے بعد اپنے جدید اے آئی ماڈلز میتھوس 5 اور فینل 5 کو عارضی طور پر محدود کر دیا تھا، تاہم حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کے بعد بعض پابندیاں واپس لے لی گئی ہیں۔

دوسری جانب چین بھی اپنے جدید اے آئی ماڈلز تک بیرونِ ملک رسائی محدود کرنے پر غور کر رہا ہے۔ چینی حکام کو خدشہ ہے کہ طاقتور اے آئی ماڈلز سائبر حملوں یا حساس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال میں استعمال ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: دنیا بھر میں روبوٹ کرائے پر لینے کا رجحان تیزی سے بڑھنے لگا

دریں اثنا ایلون مسک نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان کی کمپنی اسپیس ایکس  اپنا جدید اے آئی ماڈل گروک 4.5 عوام کے لیے دستیاب کر رہی ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی دوڑ مزید تیز ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔