اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن موڈ کا مقصد ان حملوں کے خطرات کو کم کرنا ہے جنہیں "پرامپٹ انجیکشن" کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس میں بدنیتی پر مبنی ہدایات ویب صفحات، دستاویزات یا دیگر ڈیجیٹل مواد میں شامل کر دی جاتی ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں کے رویے یا جوابات پر اثر ڈالا جا سکے۔

کمپنی کے مطابق لاک ڈاؤن موڈ فعال ہونے کے بعد چیٹ جی پی ٹی کی کچھ آن لائن صلاحیتوں کو محدود کر دیا جائے گا۔ اس دوران لائیو ویب براؤزنگ دستیاب نہیں ہوگی اور صارفین صرف پہلے سے محفوظ شدہ یا کیشڈ مواد تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس اقدام کا مقصد غیر مصدقہ یا ممکنہ طور پر نقصان دہ ویب مواد کے ذریعے سسٹم کو متاثر ہونے سے بچانا ہے۔

اوپن اے آئی نے مزید بتایا کہ اس موڈ کے دوران انٹرنیٹ سے تصاویر حاصل کرنے اور انہیں براہِ راست صارفین کو دکھانے کی سہولت بھی محدود کر دی جائے گی، تاہم صارفین مصنوعی ذہانت کی مدد سے نئی تصاویر تخلیق کرنے کی صلاحیت برقرار رکھ سکیں گے۔

کمپنی کے مطابق لاک ڈاؤن موڈ بعض جدید فیچرز، بشمول ڈیپ ریسرچ اور ایجنٹ موڈ، کی فعالیت کو بھی محدود کرے گا۔ ان خصوصیات کو محدود کرنے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ حساس معلومات غیر ضروری طور پر بیرونی ذرائع تک نہ پہنچ سکیں اور سیکیورٹی خطرات کم سے کم رہیں۔

اوپن اے آئی نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ لاک ڈاؤن موڈ مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتا۔ کمپنی کے مطابق اگر محفوظ شدہ ویب مواد یا اپ لوڈ کی گئی فائلوں میں نقصان دہ ہدایات موجود ہوں تو وہ اب بھی کسی حد تک چیٹ جی پی ٹی کے جوابات یا رویے کو متاثر کر سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ  مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ساتھ ڈیٹا سیکیورٹی اور پرائیویسی کے مسائل بھی اہم ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں اوپن اے آئی کا یہ نیا فیچر ایسے اداروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جو مالیاتی، قانونی، طبی یا دیگر حساس معلومات کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

کمپنی نے واضح کیا ہے کہ لاک ڈاؤن موڈ عام صارفین کے لیے ضروری نہیں، بلکہ یہ ان افراد اور تنظیموں کے لیے بنایا گیا ہے جو اضافی سیکیورٹی اقدامات کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ اوپن اے آئی اس فیچر کو مرحلہ وار چیٹ جی پی ٹی بزنس اکاؤنٹس اور منتخب ذاتی اکاؤنٹس کے لیے متعارف کرا رہی ہے، جبکہ مستقبل میں اس کی دستیابی کو مزید وسیع کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی دنیا میں سیکیورٹی سے متعلق یہ اقدام صارفین کے اعتماد میں اضافے اور حساس معلومات کے بہتر تحفظ کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔