بلومبرگ کے مطابق اوپن اے آئی کی نئی ڈیوائس روایتی اسمارٹ اسپیکرز سے مختلف ہوگی اور اس کا ڈیزائن ڈونٹ یا حلقے جیسا ہوگا۔ اس کی قیمت 300 ڈالر سے زیادہ ہونے کا امکان ہے، جبکہ اسے اس طرح تیار کیا جا رہا ہے کہ صارف اسے ایک ہاتھ سے اٹھا کر گھر میں مختلف مقامات پر استعمال کر سکے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیوائس کا حجم تقریباً ہاکی پک کے برابر ہوگا اور اسے مستقل طور پر بجلی سے منسلک رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ڈیوائس اتنی چھوٹی ہو سکتی ہے کہ اسے جیب میں رکھا جا سکے۔

اوپن اے آئی اس ڈیوائس کے لیے اعلیٰ معیار کی دھاتوں کے استعمال پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ اسے پریمیم شکل دی جا سکے۔ اس کا ڈیزائن مبینہ طور پر ایپل کی مصنوعات کے ڈیزائن سے مقابلے کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا رہا ہے۔

یہ ڈیوائس لوو فرام نامی ڈیزائن اسٹوڈیو کے تعاون سے تیار کی جا رہی ہے، جس کی بنیاد ایپل کے سابق چیف ڈیزائنر جونی آئیو نے رکھی تھی۔ اوپن اے آئی نے گزشتہ سال جونی آئیو کے ہارڈویئر اسٹارٹ اپ آئی او کو حاصل کیا تھا، جس کے بعد کمپنی کی ہارڈویئر کے شعبے میں پیش رفت مزید نمایاں ہوئی۔

رپورٹس کے مطابق ڈیوائس میں کیمرے، مائیکروفون اور مختلف سینسرز شامل ہوں گے، جبکہ اسے صارف کی ای میل سمیت دیگر معلومات تک رسائی بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ ان سہولیات کا مقصد اے آئی کو صارف اور اس کے اردگرد کے ماحول کو سمجھتے ہوئے زیادہ ذاتی نوعیت کی معاونت فراہم کرنے کے قابل بنانا ہے۔

ڈیوائس میں ایک خصوصی لائٹ بھی موجود ہوگی جو صارف کو یہ بتائے گی کہ اے آئی اس وقت اس کی بات سن رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ ہارڈویئر بنیادی طور پر چیٹ جی پی ٹی کے موجودہ وائس موڈ کا زیادہ جدید ورژن ہوگا۔ صارف اسکرین یا روایتی بٹنوں کے بجائے اپنی آواز کے ذریعے ڈیوائس سے بات کر سکے گا اور اے آئی کے جوابات بھی آواز کی صورت میں حاصل کرے گا۔

اس ڈیوائس کے ذریعے سوالات کے جواب دینے، روزمرہ کے کاموں میں معاونت، یاد دہانیاں کرانے، ای میل اور دیگر معلومات تک رسائی جیسے کام کیے جانے کا امکان ہے۔

اوپن اے آئی کی جانب سے اس ڈیوائس کو 2027 میں متعارف کرائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم کمپنی نے ابھی تک اس کی حتمی خصوصیات، قیمت یا لانچ کی تاریخ کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

اس ڈیوائس کی نمایاں خصوصیت اس کا اسکرین فری ڈیزائن ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صارف کو معلومات دیکھنے یا مختلف آپشنز منتخب کرنے کے لیے ڈسپلے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ مکمل طور پر آواز کے ذریعے اے آئی سے رابطہ کرے گا۔

اگر اوپن اے آئی کا یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو اس طرح کی اسکرین کے بغیر اے آئی ڈیوائسز موبائل فون اور روایتی اسمارٹ اسپیکرز کے متبادل کے طور پر روزمرہ زندگی میں اے آئی کے استعمال کا ایک نیا طریقہ متعارف کرا سکتی ہیں۔