امریکی خلائی ادارہ ناسا کی جانب سے جاری کی گئی اس تصویر کو 1968 میں اپالو 8 مشن کے دوران لی گئی مشہور ’ارتھ رائز‘ تصویر کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس نے اُس وقت دنیا بھر کے لوگوں کو بے حد متاثر کیا تھا۔ یہ تاریخی تصویر امریکی خلاباز بل اینڈرز نے اُس وقت لی تھی جب پہلی مرتبہ انسان چاند کے گرد سفر کر رہے تھے۔
EARTHSET.
— The White House (@WhiteHouse) April 7, 2026
April 6, 2026.
Humanity, from the other side. First photo from the far side of the Moon. Captured from Orion as Earth dips beyond the lunar horizon. Photo: NASA pic.twitter.com/ZEBTQA85TY
حالیہ تصویر میں نیلے اور نازک سیارے زمین کو چاند کے سخت اور بنجر افق کے ساتھ نمایاں تضاد میں دیکھا جا سکتا ہے، جو خلا کی تاریکی میں ایک منفرد منظر پیش کرتا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے اسے چاند کے دور سے لی گئی ایک تاریخی جھلک قرار دیا۔
واضح رہے کہ آرٹیمس دوم کے چار رکنی عملے میں امریکی خلاباز ریڈ وائزمین، کرسٹینا کوچ اور وکٹر گلوور کے ساتھ کینیڈا کے جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ یہ مشن مستقبل میں 2028 میں متوقع چاند پر انسانی لینڈنگ کی راہ ہموار کرنے کے لیے جاری وسیع پروگرام کا حصہ ہے۔
خلابازوں نے قمری پرواز کے دوران زمین سے سب سے زیادہ فاصلے کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا اور اب وہ جمعہ کو کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں اسپلیش ڈاؤن کے ذریعے زمین پر واپسی کے لیے گامزن ہیں۔
مشن کے دوران عملے نے چاند کی سطح کے انتہائی واضح اور تفصیلی مناظر کا مشاہدہ کیا، جب کہ سورج گرہن کا نظارہ بھی کیا جب چاند سورج کے سامنے آ گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے چاند کی سطح پر الکا کے ٹکراؤ کے باعث پیدا ہونے والی روشنی کی جھلکیاں بھی دیکھیں۔
WATCH IN FULL 🇺🇸 https://t.co/NBEzoT1uwR pic.twitter.com/V2e1pY4wlv
— The White House (@WhiteHouse) April 7, 2026
خلاباز وکٹر گلوور کے مطابق یہ مناظر الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے، انسان شاید ابھی اس قابل نہیں کہ وہ مکمل طور پر سمجھ سکے کہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں۔ یہ واقعی حیرت انگیز ہے۔
بعد ازاں عملے کو ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیراڈ آئزک مین اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مبارکباد دی گئی۔ صدر ٹرمپ نے خلابازوں کو جدید دور کے علمبردار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے خلابازوں سے ان کے تجربات کے بارے میں بھی دریافت کیا، خصوصاً اس وقت کے بارے میں جب خلائی جہاز تقریباً 40 منٹ تک زمین سے رابطہ منقطع ہونے کے باعث بلیک آؤٹ کا شکار رہتا ہے۔ دلچسپ طور پر اس دوران خود کال میں بھی سگنل کی عارضی خرابی دیکھنے میں آئی۔
آرٹیمس دوم مشن نے 1970 کے اپالو 13 مشن کے فاصلے کا ریکارڈ بھی توڑ دیا، جب خلائی جہاز زمین سے تقریباً 6 ہزار کلومیٹر مزید دور تک پہنچا۔
یہ مشن کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وکٹر گلوور چاند کے گرد پرواز کرنے والے پہلے سیاہ فام خلاباز بن گئے ہیں، کرسٹینا کوچ اس مشن کا حصہ بننے والی پہلی خاتون ہیں، جبکہ جیریمی ہینسن پہلے غیر امریکی خلاباز ہیں جنہوں نے اس مشن میں شرکت کی۔
Sweet dreams, @NASAArtemis II crew.
— NASA (@NASA) April 6, 2026
One last look at the Moon before flight day six and your epic lunar flyby, taking you farther into space than humans have EVER traveled. pic.twitter.com/roqklB0iGQ
زمین واپسی کے سفر کے دوران اورین کیپسول ایک مخصوص ’فری ریٹرن ٹریکٹری‘ پر سفر کرے گا، جو اسے محفوظ طریقے سے واپس لانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔
مشن کے دوران خلابازوں نے چاند کے دو بے نام گڑھوں کے نام بھی تجویز کیے ہیں۔ ایک کا نام اپنے خلائی جہاز کے عرفی نام ’انٹیگریٹی‘ پر رکھا گیا، جب کہ دوسرے گڑھے کا نام ’کیرول‘ تجویز کیا گیا، جو مشن کمانڈر ریڈ وائزمین کی مرحومہ اہلیہ کے نام پر رکھا گیا ہے۔
ناسا کے مطابق ان ناموں کی باضابطہ منظوری کے لیے انہیں بین الاقوامی فلکیاتی یونین کو ارسال کیا جائے گا، جو فلکیاتی اجسام اور ان کی سطحی خصوصیات کے نام رکھنے کا مجاز ادارہ ہے۔







