ناسا کے مطابق مشن کے کمانڈر ریڈ وائزمین نے اس موقع پر شاندار تصاویر کھینچیں، جب خلائی جہاز کے انجن کو مکمل طور پر جلایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز نے چاند کی جانب تیز رفتار سفر اختیار کیا۔

ناسا کے آن لائن ڈیش بورڈ کے مطابق، تقریباً دوپہر کے 11 بجے خلائی جہاز اورین زمین سے 1 لاکھ 42 ہزار میل (2 لاکھ 28 ہزار 500 کلومیٹر) جبکہ چاند سے 1 لاکھ 32 ہزار میل کے فاصلے پر تھا۔

خلاباز کرسٹینا کوچ نے بتایا کہ اس اہم سنگِ میل پر پہنچنے کی اطلاع ملنے پر عملے نے اجتماعی طور پر خوشی کا اظہار کیا۔ یہ مرحلہ پرواز کے آغاز کے تقریباً دو دن، پانچ گھنٹے اور 24 منٹ بعد حاصل کیا گیا۔

جاری کی گئی پہلی تصویر، جسے ہیلو ورلڈ کا نام دیا گیا ہے،جس  میں بحرِ اوقیانوس کا وسیع نیلا پھیلاؤ دکھائی دیتا ہے، جس کے گرد زمین کے ماحول کی ہلکی روشنی نمایاں ہے، جب کہ قطبین کے قریب سبز روشنی (شفقِ قطبی) بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

تصویر میں زمین الٹی نظر آ رہی ہے، جہاں بائیں جانب مغربی صحارا اور آئبیرین جزیرہ نما، جب کہ دائیں جانب جنوبی امریکا کا مشرقی حصہ دکھائی دیتا ہے۔ ناسا نے تصویر کے نچلے دائیں حصے میں نظر آنے والے روشن سیارے کی شناخت زہرہ (وینس) کے طور پر کی ہے۔

یہ تصاویر اس وقت لی گئیں جب عملے نے جمعہ کی صبح چاند کی جانب منتقلی کے مرحلے (ٹرانس لونر انجیکشن) کو کامیابی سے مکمل کیا۔ اس عمل کے بعد ’اورین‘ خلائی جہاز زمین کے مدار سے باہر نکل گیا اور اس میں سوار چار خلاباز چاند کی جانب 2 لاکھ میل سے زائد سفر پر روانہ ہو گئے۔

مشن ’ارٹیمس ٹو‘ اس وقت ایک مخصوص مدار میں سفر کر رہا ہے، جو اسے چاند کے دور دراز حصے کے گرد لے جا کر دوبارہ زمین کی جانب واپس لائے گا۔ سن 1972 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انسان زمین کے مدار سے باہر سفر کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ خلائی جہاز امریکی ریاست فلوریڈا میں واقع کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہوا تھا۔ منصوبے کے مطابق عملہ 6 اپریل کو چاند کے دور دراز حصے سے گزرے گا اور 10 اپریل کو بحرالکاہل میں بحفاظت واپسی (اسپلش ڈاؤن) کرے گا۔

مشن کے ماہر جیریمی ہینسن نے ہیوسٹن میں قائم مشن کنٹرول کو بتایا کہ انجن کے جلنے کے بعد عملہ کھڑکیوں سے چپک کر خلا کے مناظر دیکھتا اور تصاویر بناتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں زمین کے تاریک حصے کا ایک نہایت خوبصورت منظر دکھائی دے رہا ہے، جو چاند کی روشنی سے منور ہے۔

بعد ازاں کمانڈر وائزمین نے مشن کنٹرول سے رابطہ کر کے کھڑکیوں کی صفائی کے طریقہ کار کے بارے میں دریافت کیا، کیونکہ مسلسل مشاہدے کے باعث شیشے متاثر ہو گئے تھے۔

ابتدائی طور پر وائزمین کو اتنے فاصلے سے زمین کی تصاویر لینا مشکل پیش آیا، کیونکہ روشنی اور نمائش کی ترتیب کو متوازن رکھنا آسان نہیں تھا۔ انہوں نے کہاکہ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ اپنے گھر کے باہر کھڑے ہو کر چاند کی تصویر لینے کی کوشش کریں۔

تاہم بعد میں یہ مسئلہ حل ہو گیا اور مزید واضح تصاویر حاصل کی گئیں۔

ایک اور تصویر میں زمین کو دن اور رات کے حصوں میں تقسیم دکھایا گیا ہے، جب کہ روشنی اور تاریکی کے درمیان حد کو سرحدِ سایہ کہا جاتا ہے۔

بعد ازاں ناسا نے ایک اور تصویر بھی جاری کی، جس میں زمین تقریباً مکمل تاریکی میں نظر آتی ہے اور اس پر انسانوں کی بنائی گئی برقی روشنیاں جھلملا رہی ہیں۔

ناسا نے ایک تقابلی تصویر بھی جاری کی، جس میں 2026 کی زمین کا منظر 1972 میں اپالو 17 مشن کے دوران لی گئی تصویر کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ گزشتہ 54 برسوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے، مگر ایک چیز آج بھی ویسی ہی ہے، خلا سے ہمارا سیارہ بے حد خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔