خبر رساں اشاعتی ادارے بزنس ریکارڈر کے مطابق ہر 10 میں سے ایک سرمایہ کار اب اپنی سرمایہ کاری کے فیصلے مصنوعی ذہانت کی مدد سے کر رہا ہے۔ اس رجحان نے روبو ایڈوائزری مارکیٹ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
ریسرچ اینڈ مارکیٹس کے مطابق روبو ایڈوائزری مارکیٹ کا حجم 2023 تک 470 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ 2024 میں تقریباً 62 ارب ڈالر تھا۔ اس اضافے میں وہ کمپنیاں شامل ہیں جو فِن ٹیک، بینکنگ اور ویلتھ مینجمنٹ کے شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں۔
ہانگ کانگ کے تجزیہ کار جیریمی لیونگ، جو یو بی ایس میں تقریباً 20 سال کام کر چکے ہیں، اب چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے اپنے پورٹ فولیو کا انتظام کرتے ہیں۔
ان کے بقول میرے پاس اب بلومبرگ ٹرمینل جیسی مہنگی سہولت نہیں ہے لیکن چیٹ جی پی ٹی بہت حد تک اسی جیسا کام کر دیتا ہے۔ تاہم وہ اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ یہ ٹول پے وال کے پیچھے موجود معلومات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا اس لیے بعض پہلو نظر انداز ہو سکتے ہیں۔
ای ٹورو کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے 11 ہزار ریٹیل سرمایہ کاروں میں سے تقریباً نصف ایسے ہیں جو چیٹ جی پی ٹی یا گوگل کے جیمینی جیسے اے آئی ٹولز کے ذریعے سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تیرہ فیصد نے بتایا کہ وہ پہلے ہی ان ٹولز کا استعمال کر رہے ہیں۔

برطانیہ میں فائنڈر کے سروے کے مطابق چالیس فیصد افراد ذاتی مالی مشورے کے لیے چیٹ بوٹس یا مصنوعی ذہانت پر انحصار کرتے ہیں۔
ای ٹورو برطانیہ کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈین موچلسکی کے مطابق مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب لوگ عمومی ماڈلز جیسے چیٹ جی پی ٹی کو جادوئی گیند سمجھ لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ تجزیے کے لیے صرف وہ پلیٹ فارم قابل اعتماد ہیں جو خاص طور پر اسی مقصد کے لیے تیار کیے گئے ہوں۔
مارچ 2023 میں فائنڈر نے چیٹ جی پی ٹی سے منتخب کردہ 38 اسٹاکس پر مشتمل ایک باسکٹ تیار کیا تھا جس میں این ویڈیا، ایمیزون اور پروکٹر اینڈ گیمبل جیسی کمپنیاں شامل تھیں۔ اب تک اس باسکٹ کی قدر تقریباً پچپن فیصد بڑھ چکی ہے جو برطانیہ کے کئی مقبول فنڈز سے بہتر کارکردگی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت سرمایہ کاری کو زیادہ لوگوں کے لیے قابل رسائی بنا رہی ہے لیکن اس کے ساتھ خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ جیریمی لیونگ کے مطابق اگر لوگ کساد بازاری یا مالی بحران کے دوران ان ٹولز پر انحصار کریں گے تو نقصان کا خدشہ زیادہ ہوگا۔
واضع رہے کہ اس وقت حکومت یا کسی ریگولیٹری ادارے کی جانب سے اس رجحان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت پر انحصار کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے واضح ضابطہ کار وضع کرنا ضروری ہوگا۔







