نیا دفتر وزیرِاعظم و کابینہ کے محکمے کے تحت کام کرے گا اور مختلف وزارتوں کے درمیان مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسیوں اور معیارات میں ہم آہنگی پیدا کرے گا تاکہ پورے حکومتی نظام میں ایک مربوط حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔

وزیرِاعظم انتھونی البانیز بدھ کو سڈنی میں ایک اہم خطاب کے دوران اس اقدام کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ ان کے مطابق اب تک حکومت کا ردعمل اے آئی کے مختلف شعبوں میں الگ الگ رہا، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے لیے ایک جامع قومی پالیسی اختیار کی جائے، جیسا کہ ماضی میں سول ایوی ایشن اور جینیات جیسی اہم ٹیکنالوجیز کے لیے کیا گیا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دنیا میں اپنی نوعیت کا منفرد ماڈل ہوگا، جس سے سرمایہ کاروں کو منظوریوں کے عمل میں زیادہ شفافیت ملے گی، ضابطہ جاتی تقاضے آسان ہوں گے اور آسٹریلیا مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بن سکے گا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسٹریلیا خود کو مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کا عالمی مرکز بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ماہرین اے آئی کے باعث ممکنہ ملازمتوں میں کمی، توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال، سلامتی، دانشورانہ املاک کے تحفظ اور ماحولیات پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: سام سنگ کی دوسری سہ ماہی میں ریکارڈ آمدن متوقع

واضح رہے کہ اس وقت آسٹریلیا میں مصنوعی ذہانت سے متعلق کوئی مخصوص قانون موجود نہیں، اور حکومت فی الحال رازداری، صارفین کے تحفظ کے قوانین اور رضاکارانہ اے آئی  اخلاقی اصولوں کے تحت اس شعبے کی نگرانی کر رہی ہے۔