آسٹریلیا کی قومی سائنسی تحقیقی ایجنسی سی ایس آئی آر او نے 2013 میں کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف کیا تھا کہ یوکلپٹس کے درختوں کے پتوں اور شاخوں میں سونے کے نہایت باریک ذرات موجود ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آسٹریلیا کے خشک علاقوں میں یوکلپٹس کی جڑیں پانی کی تلاش میں تقریباً 40 میٹر (130 فٹ) تک زمین میں اتر جاتی ہیں۔ اگر ان جڑوں کے نیچے سونے کے قدرتی ذخائر موجود ہوں تو زیرِ زمین پانی میں شامل انتہائی باریک سونے کے ذرات بھی پانی کے ساتھ درخت کے اندر منتقل ہو جاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق چونکہ سونا درخت کی نشوونما کے لیے مفید نہیں ہوتا، اس لیے درخت ان ذرات کو اپنے پتوں تک منتقل کر دیتا ہے۔ بعد ازاں جب پتے جھڑتے ہیں تو یہ باریک ذرات بھی زمین پر آ جاتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان ذرات کا حجم اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ انہیں عام آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ ان کی نشاندہی کے لیے جدید ایکس رے امیجنگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔

ماہرین کے مطابق ان پتوں سے تجارتی بنیادوں پر سونا حاصل کرنا ممکن نہیں، کیونکہ ایک معمولی زیور کے لیے بھی ہزاروں درختوں کے پتے درکار ہوں گے۔

تاہم اس دریافت نے معدنیات کی تلاش میں نئی راہیں کھول دی ہیں، جہاں مائننگ کمپنیاں درختوں کے پتوں کا تجزیہ کرکے زمین کے نیچے موجود ممکنہ سونے کے ذخائر کا اندازہ لگا سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے یوکلپٹس کو بعض اوقات نیچرل گولڈ ڈیٹیکٹر بھی کہا جاتا ہے۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ہر یوکلپٹس کے درخت میں سونا موجود نہیں ہوتا، بلکہ صرف وہی درخت سونے کے ذرات جذب کر سکتے ہیں جن کی جڑوں کے نیچے قدرتی طور پر سونے کی کانیں یا ذخائر موجود ہوں۔

دوسری جانب پاکستان میں یوکلپٹس کے درخت ماضی میں سیم و تھور پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر لگائے گئے تھے، تاہم ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ درخت زیرِ زمین پانی بڑی مقدار میں استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث بعض علاقوں میں آبی وسائل پر دباؤ بڑھنے اور زرعی زمینوں پر منفی اثرات کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ البتہ ان اثرات کا انحصار مقامی ماحول، پانی کی دستیابی اور شجرکاری کے طریقہ کار پر ہوتا ہے۔