کی قیمت ہونڈا کے اس نئے ماڈل سے کم ہے، جب کہ یاماہا وائے بی آر 125 ڈی ایکس، جو کہ 125سی سی انجن رکھتی ہے، صرف 400 روپے کم قیمت پر دستیاب ہے۔
واضح رہے کہ تاحال کمپنی نے سرکاری طور پر انجن کی تفصیلات جاری نہیں کیں، لیکن تصاویر اور اسپیسفیکیشنز دیکھ کر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس میں وہی 150سی سی او ایچ سی انجن دیا گیا ہے، جو ہونڈاسی بی 150 ایف میں استعمال ہوتا ہے۔ اس انجن میں بیلینسر شافٹ بھی شامل ہے، جو وائبریشن کو کم کرتا ہے۔ انجن کے دونوں سائیڈ کیس بھی سی بی 150ایف جیسے ہی دکھائی دیتے ہیں۔
ہونڈا سی جی 150 کی اہم خصوصیات میں ایل ای ڈی ہیڈلائٹس، آل فارورڈ گئیر شفٹنگ اور سی ڈی 70جیساسی بی ایس بریکنگ سسٹم، بلیک الائے رم، فرنٹ ڈسک بریک، زیادہ ٹریول والے ٹیلیسکوپک شاکس، سیلف اسٹارٹ سسٹم (انجن کیسنگ کے دائیں جانب نظر آنے والا بلج اس کی نشاندہی کرتا ہے) وغیرہ شامل ہیں۔
ان کے علاوہ نئی سی جی 150 میں جگہ جگہ کروم فنشنگ کا استعمال بھی نمایاں ہے، جیسے سائلنسر، فرنٹ و ریئر شاکس، مڈگارڈز، انڈیکیٹرز اور ٹیل لائٹ کے گارنشز میں کروم کا خوب استعمال کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اٹلس ہونڈا نے گزشتہ چھ سالوں میں کوئی نیا ماڈل متعارف نہیں کرایا تھا اور ہر سال صرف گرافکس کی تبدیلی کے ساتھ نیا ورژن لانچ کرتا رہا۔ اب صارفین کی امیدیں اس مکمل نئےسی جی 150 سے وابستہ ہو گئی ہیں۔







