عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ایلون مسک کا ماننا ہے کہ جس طرح سائبر ٹرک اور خودکار روبوٹیکسیز ٹیسلا کی پہچان ہیں، اسی طرح یہ روبوٹ کمپنی کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مستقبل کی بنیاد بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے حالیہ ایک ٹریلین ڈالر کے معاوضے کی منظوری دینے والے سرمایہ کاروں نے بھی اس وژن پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔
معاہدے کے مطابق مسک کو اگلے دس برسوں میں ایک ملین اے آئی روبوٹس فراہم کرنا ہوں گے تاکہ ان کی بھاری تنخواہ کی شرائط پوری ہوں۔
ادھر سلیکون ویلی میں انسان نما روبوٹس کی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ مورگن اسٹینلے کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر ایپل بھی اس میدان میں داخل ہوا تو 2040 تک اسے 133 ارب ڈالر سالانہ آمدنی ہوسکتی ہے۔
فاکس کان نے پہلے ہی اپنے انویدیا پلانٹ میں ایسے روبوٹس تعینات کرنا شروع کر دیے ہیں۔ انسانی شکل میں اعلیٰ درجے کی مصنوعی ذہانت کا امتزاج ایک انقلابی تصور سمجھا جا رہا ہے۔ اب کئی کمپنیاں ایسی مشینیں گھروں میں لانے پر کام کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر 1X ٹیک کمپنی کا روبوٹ "نیو" جو 2026 میں متعارف ہوگا، گھریلو کام جیسے کپڑے تہہ کرنا، برتن دھونا اور چیزیں لانا جیسے کام کر سکے گا۔ تاہم اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اسے ورچوئل رئیلٹی ہیڈسیٹ پہنے ایک انسان کنٹرول کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پرزوں کی لاگت میں کمی اور مصنوعی ذہانت میں پیش رفت نے روبوٹس کو مختلف شعبوں جیسے ریسٹورنٹس، گوداموں، سیکیورٹی اور بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے کارآمد بنا دیا ہے۔
ایلون مسک نے حال ہی میں کہا کہ ان کے روبوٹس مستقبل میں گاڑیوں کے کاروبار سے بھی زیادہ اہمیت حاصل کر سکتے ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے اسے "دنیا کی سب سے بڑی پروڈکٹ" قرار دیا، ”آپٹیمس“ ٹیسلا کی اے آئی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے اور ممکن ہے کہ یہ مصنوعی عمومی ذہانت کی جانب اہم قدم ثابت ہو۔
دوسری جانب بوسٹن ڈائنامکس کے روبوٹ ایٹلس نے اپنے شاندار جمناسٹکس اور ڈانس ویڈیوز کے ذریعے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی ہے۔ اب یہ ماڈل مکمل طور پر الیکٹرک روبوٹ میں تبدیل ہو چکا ہے جو پہلے سے زیادہ لچکدار حرکات کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روبوٹس کو انسانی شکل دینا تکنیکی لحاظ سے ضروری نہیں کیونکہ پہیوں والے روبوٹس زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں، لیکن انسانی نفسیات انہیں انسان نما روبوٹس سے زیادہ مانوس محسوس کرواتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم انہیں سائنس فکشن فلموں سے حقیقت کی دنیا میں آتا دیکھ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ناروے کے ویلتھ فنڈ کا ایلون مسک کے ایک کھرب ڈالر کے معاوضے کی مخالفت کا اعلان
ٹیسلا کا ”آپٹیمس“ اب عملی مظاہروں میں بھی سامنے آ رہا ہے، حال ہی میں اسے کمپنی کے ہالی وڈ ڈائنر میں برگر اور پاپ کارن پیش کرتے دیکھا گیا۔
چیٹ جی پی ٹی کے خالق سیم آلٹمین کا کہنا ہے کہ دنیا شاید ابھی اس ٹیکنالوجی کے لیے تیار نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ روبوٹس کا دور اب شروع ہو چکا ہے اور ایلون مسک کے پاس نہ صرف طاقت اور اثر و رسوخ ہے بلکہ اتنا سرمایہ بھی ہے کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں۔







