فرانسیسی عدالتی حکام کے مطابق ایکس (X) کے خلاف تحقیقات کئی سنگین الزامات کے گرد گھوم رہی ہیں، جن میں پلیٹ فارم کے الگورتھمز کے ذریعے سیاسی رائے عامہ پر ممکنہ اثراندازی اور مواد کی ترتیب و ترسیل سے متعلق خدشات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد، خصوصاً کمپنی کے اے آئی سسٹم “گروک (Grok)” کے ذریعے بنائے گئے ممکنہ ڈیپ فیک مواد پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کی عدم موجودگی کے باوجود فرانسیسی پراسیکیوٹرز نے واضح کر دیا ہے کہ کیس کی کارروائی بغیر کسی تعطل کے جاری رہے گی اور تحقیقات کے تمام پہلوؤں کو مکمل طور پر جانچا جائے گا۔
A propos - Elon Musk snubs Paris prosecutors summons over X and Grok
— FRANCE 24 English (@France24_en) April 20, 2026
➡️ https://t.co/QMtt8gmWUT pic.twitter.com/S9Z6U9JlLs
ادھر یورپی یونین میں بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نگرانی سخت ہونے لگی ہے، جہاں ڈیٹا کے استعمال، مواد کی فلٹرنگ اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کے حوالے سے نئے قوانین پر تیزی سے کام جاری ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیوں کو اپنی ذمہ داریوں کا زیادہ سختی سے ادراک کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ یہ کیس صرف ایک کمپنی یا ایک شخصیت تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک اہم مثال بنتا جا رہا ہے، جہاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور اے آئی ٹیکنالوجی کو اب محض کاروباری ٹول نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی اثرات رکھنے والا عنصر سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں ایسے مقدمات مزید بڑھ سکتے ہیں، جس سے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔







