یہ فیصلہ یورپی یونین کے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ  کے تحت دیا گیا، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو محدود کرنا اور چھوٹی کمپنیوں کے لیے منصفانہ مسابقت کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس قانون کے تحت ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر ان کی سالانہ عالمی آمدنی کا 10 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

لکسمبرگ میں قائم جنرل کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایپل کے تمام ایپ اسٹورز، چاہے وہ آئی فون، آئی پیڈ، میک، ایپل ٹی وی یا ایپل واچ کے لیے ہوں، بنیادی طور پر ایک ہی مقصد رکھتے ہیں، یعنی ایپ ڈویلپرز کو صارفین سے جوڑنا اور سافٹ ویئر کی تقسیم کو ممکن بنانا۔ اسی بنیاد پر انہیں ایک مشترکہ بنیادی پلیٹ فارم سروس قرار دینا درست ہے۔

ایپل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کمپنی کو ایسے اقدامات پر مجبور کر رہا ہے جو صارفین کی رازداری اور سیکیورٹی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ کمپنی کے ترجمان نے فیصلے کے بعد کہا کہ ڈیجیٹل مارکیٹ ایکٹ قانونی حدود سے تجاوز کرتا ہے اور ان حفاظتی اقدامات کو کمزور کرتا ہے جنہیں ایپل نے کئی دہائیوں میں تیار کیا ہے، جس سے صارفین نئے سیکیورٹی خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

عدالت نے ایپل کی آئی میسج سروس سے متعلق درخواست بھی ناقابلِ سماعت قرار دے دی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ چونکہ آئی میسج کو ابھی تک ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کے تحت باضابطہ طور پر "اہم گیٹ وے سروس" قرار نہیں دیا گیا، اس لیے اس پر اس قانون کی متعلقہ ذمہ داریاں لاگو نہیں ہوتیں۔

ایپل نے 2024 میں یورپی کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا، تاہم عدالت نے کمیشن کے مؤقف کی توثیق کر دی۔ کمپنی کے پاس اب بھی یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت، کورٹ آف جسٹس آف دی یورپی یونین، میں قانونی نکات کی بنیاد پر اپیل کرنے کا حق موجود ہے۔

مزید پڑھیں: سانتاندر بینک میں 3 ہزار ملازمین کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر غور

یاد رہے کہ ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ مئی 2023 سے نافذ العمل ہے اور اس کے تحت ایپل، میٹا، بائٹ ڈانس اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر سخت مسابقتی ضوابط لاگو کیے گئے ہیں تاکہ یورپی صارفین کو زیادہ انتخاب اور بہتر مسابقتی ماحول فراہم کیا جا سکے۔