چینی قوانین کے تحت کسی بھی بڑی لینگویج ماڈل یا جنریٹو اے آئی سروس کو عوام کے لیے متعارف کرانے سے قبل حکومتی رجسٹریشن اور منظوری حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اس منظوری کے بعد ایپل اب چینی صارفین کو اپنی اے آئی سہولیات فراہم کرنے کے قریب پہنچ گیا ہے
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، چین میں ایپل انٹیلجنس کے لیے ایپل نے مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں علی بابا اور بائیڈو کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ علی بابا کا کوین اے آئی ماڈل چین میں آئی فون، آئی پیڈ، میک اور وژن پرو ڈیوائسز پر ایپل انٹیلجنس کا حصہ ہوگا، جبکہ بائیڈو بھی چینی صارفین کے لیے مخصوص اے آئی فیچرز کی تیاری میں ایپل کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
ایپل نے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اقدام چین میں کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جہاں صارفین کافی عرصے سے ایپل انٹیلجنس کے اجرا کے منتظر تھے۔
اگرچہ چینی ریگولیٹر نے سروس کے باضابطہ آغاز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، تاہم منظوری کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ ایپل انٹیلجنس جلد ہی چین میں دستیاب ہوگی۔
دوسری جانب، ایپل کی چین میں کاروباری کارکردگی بھی بہتر ہو رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران چین میں آئی فون شپمنٹس میں سالانہ بنیاد پر 24.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ماہرین کا انتباہ: اے آئی سے عدم مساوات اور بے روزگاری بڑھنے کا خدشہ
ادھر چینی ریگولیٹر نے زیڈ ٹی ای کے نیوبا ڈیباو اسمارٹ فون کو بھی رجسٹر کر لیا ہے۔ یہ اے آئی پر مبنی اسمارٹ فون بائے ڈانس کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے، جو چین میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔







