قدرتی یورینیم دو اہم اقسام پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں یورینیم 238 اور یورینیم 235 شامل ہیں۔ یورینیم 238 قدرتی یورینیم کا تقریباً 99 فیصد حصہ ہوتا ہے، تاہم یہ براہ راست ایٹمی توانائی یا ہتھیاروں کے لیے زیادہ مؤثر نہیں سمجھا جاتا۔ اس کے برعکس یورینیم 235 کی مقدار نہایت کم، یعنی ایک فیصد سے بھی کم ہوتی ہے، مگر یہی وہ عنصر ہے جو ایٹمی توانائی پیدا کرنے اور ایٹمی ہتھیار بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

 جب یورینیم 235 کے ایٹمز کو تقسیم کیا جاتا ہے تو اس سے بے پناہ توانائی خارج ہوتی ہے، جسے نیوکلیئر فیژن کہا جاتا ہے۔ یہی عمل ایٹمی بجلی گھروں میں بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ اسی ٹیکنالوجی کو مزید بڑھا کر ہتھیاروں میں بھی ڈھالا جا سکتا ہے۔

یورینیم 235 کی مقدار بڑھانے کے عمل کو افزودگی کہا جاتا ہے، جو ایک نہایت پیچیدہ اور مہنگا مرحلہ ہوتا ہے۔ اس عمل میں یورینیم کو گیس کی شکل میں تبدیل کر کے خصوصی مشینوں، یعنی سینٹری فیوجز، میں انتہائی تیز رفتاری سے گھمایا جاتا ہے۔ اس دوران بھاری یورینیم 238 الگ ہو جاتا ہے جبکہ ہلکا یورینیم 235 زیادہ مقدار میں حاصل ہونے لگتا ہے۔

خیال رہے کہ افزودگی کی سطح ہی اس بات کا تعین کرتی ہے کہ یورینیم کس مقصد کے لیے استعمال ہوگا۔ اگر یورینیم میں یورینیم 235 کی مقدار 3 سے 5 فیصد تک ہو تو اسے نیوکلیئر پاور پلانٹس میں استعمال کیا جاتا ہے، جہاں سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ اسی طرح 20 فیصد تک افزودہ یورینیم سائنسی تحقیق اور میڈیکل مقاصد کے لیے کارآمد ہوتا ہے۔

تاہم جیسے جیسے افزودگی کی سطح بڑھتی ہے، عالمی خدشات میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 60 فیصد تک افزودگی ایک حساس حد سمجھی جاتی ہے، کیونکہ اس کے بعد ہتھیاروں کے قابل یورینیم تیار کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ جبکہ 90 فیصد یا اس سے زائد افزودگی کو ویپن گریڈ یورینیم کہا جاتا ہے، جو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔

یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سائنسی معاملہ عالمی سیاست میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایران کو اس حد تک یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آ رہا ہے کہ اس کا نیوکلیئر پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے، جس کا مقصد توانائی کی پیداوار اور سائنسی ترقی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یورینیم کی افزودگی ان کے لیے خودمختاری اور دفاعی حکمت عملی کا حصہ بھی ہے۔

واضح رہے کہ یہی اختلاف دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے، جہاں ایک طرف امریکا اسے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، تو دوسری جانب ایران اسے اپنا حق قرار دیتا ہے۔ اسی تناظر میں عالمی طاقتیں اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سفارتی سطح پر مذاکرات اور دباؤ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔