عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق چھانٹی کا عمل منگل سے شروع ہو رہا ہے اور اس میں ایمیزون کے مختلف شعبے متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں ہیومن ریسورسز (PXT)، آپریشنز، ڈیوائسز و سروسز اور ایمیزون ویب سروسز (AWS) شامل ہیں۔
یہ کمپنی کی سب سے بڑی نوکریوں میں کمی ہوگی، جس کے بعد 2022 کے اواخر میں کیے گئے 27 ہزار ملازمین کی برطرفی کا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔
متعلقہ ٹیموں کے منیجرز کو پیر کے روز خصوصی ٹریننگ دی گئی تاکہ وہ منگل کو ملازمین کو ای میل کے ذریعے نوٹس بھیجنے کے بعد صورتحال کو بہتر طریقے سے سنبھال سکیں۔
کمپنی کے سی ای او اینڈی جیسی نے پہلے ہی عندیہ دیا تھا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے استعمال سے دفتری کاموں کی آٹومیشن میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں کچھ ملازمتوں کی ضرورت کم پڑ جائے گی۔
So now there will be 30,000 layoffs by Amazon and this is apparently just the beginning! 🤬 pic.twitter.com/xb4MDFsDN4
— Suzie rizzio (@Suzierizzo1) October 28, 2025
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایمیزون نے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے AI سے حاصل ہونے والی پیداواریت کے فوائد کو استعمال کرتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے۔
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ کمپنی کے دفتر میں پانچ دن حاضری کی نئی پالیسی سے مطلوبہ حد تک ملازمین خود چھوڑ کر نہیں گئے، اسی لیے بڑے پیمانے پر نوکریوں میں کمی کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ ایمیزون نے رواں سال کے اختتام پر متوقع بڑی تعطیلاتی خریداری مہم کے لیے 2 لاکھ 50 ہزار موسمی ملازمین بھرتی کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
ایمیزون کے شیئرز پیر کے روز 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 226.97 ڈالر پر بند ہوئے، جب کہ کمپنی اپنا تیسری سہ ماہی کا مالیاتی نتیجہ جمعرات کو جاری کرے گی۔







