ماہرین کا کہنا ہے کہ فضا میں موجود ایک اوسط سائز کے بادل کا وزن تقریباً 5 لاکھ کلوگرام ہوتا ہے، جو زمین پر موجود تقریباً 100 بڑے افریقی ہاتھیوں کے مجموعی وزن کے برابر ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا بھاری بادل آخر ہوا میں معلق کیسے رہتا ہے؟ سائنسدانوں کے مطابق اس راز کا تعلق بادل کی ساخت سے ہے۔ بادل کسی ٹھوس مادے سے نہیں بنتے بلکہ یہ پانی کے اربوں ننھے قطروں اور برف کے باریک ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ قطرے انتہائی چھوٹے اور ہلکے ہوتے ہیں، جبکہ ایک بادل کئی کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلا ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق زمین سے اٹھنے والی گرم ہوا کی لہریں مسلسل اوپر کی جانب حرکت کرتی ہیں، جو ان باریک قطروں کو فضا میں معلق رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ بادل کا وسیع پھیلاؤ اور ہوا کا دباؤ بھی اسے آسمان پر برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب یہ ننھے قطرے آپس میں مل کر بڑے قطروں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو ہوا کی لہریں ان کا وزن سنبھال نہیں پاتیں، جس کے بعد یہی بادل بارش کی صورت میں زمین پر برس پڑتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بارش کا ہر قطرہ قدرت کے ایک حیرت انگیز نظام کا حصہ ہے، جو زمین پر زندگی کے تسلسل اور ماحول کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔