تین مراحل پر مشتمل 22 میٹر طویل وکرم-1 راکٹ کو ریاست آندھرا پردیش میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز، سری ہری کوٹا سے کامیابی کے ساتھ لانچ کیا گیا۔ راکٹ نے صارفین کے پے لوڈز کو زمین کے گرد تقریباً 450 کلومیٹر بلند نچلے مدار میں کامیابی سے پہنچایا۔
اس کامیاب لانچ کے ساتھ بھارت نجی شعبے کے ذریعے مداری راکٹ لانچ کرنے کی صلاحیت رکھنے والا دنیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے۔ وکرم-1 350 کلوگرام تک وزن کا پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ اس میں نصب روبوٹک بازو مستقبل میں خلا میں موجود ملبہ ہٹانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
راکٹ میں تجرباتی آلات کے علاوہ لیبارٹری میں تیار کیا گیا ایک ہیرا اور بھارت کے قومی خلائی پروگرام کی یاد میں 18 قیراط سونے کا ایک ننھا مجسمہ بھی خلا میں بھیجا گیا۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی نوجوان نسل کو بڑے خواب دیکھنے اور نئی ایجادات کی جانب بڑھنے کی ترغیب دے گی۔
راکٹ تیار کرنے والی کمپنی اسکائی روٹ ایرو اسپیس کے مطابق اس آزمائشی پرواز کے دوران راکٹ کے پروپلشن، ایویونکس، ٹیلی میٹری، گائیڈنس، نیویگیشن اور کنٹرول سسٹمز کا کامیاب جائزہ لیا گیا۔
اسکائی روٹ ایرو اسپیس 2018 میں قائم ہوئی تھی اور بھارت میں خلائی شعبے کو نجی سرمایہ کاری کے لیے کھولے جانے کے بعد تیزی سے ابھرنے والی کمپنیوں میں شامل ہے۔ رواں سال یہ ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت حاصل کرنے والی بھارت کی پہلی خلائی کمپنی بھی بن گئی۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت : پاکستان کے لیے ایک موقع یا چیلنج
واضح رہے کہ بھارت اس سے قبل 2017 میں ایک ہی راکٹ کے ذریعے 104 سیٹلائٹس خلا میں بھیج کر عالمی ریکارڈ قائم کر چکا ہے، جبکہ 2023 میں چندریان-3 مشن کی کامیاب لینڈنگ کے بعد چاند کے جنوبی قطب کے قریب پہنچنے والا دنیا کا چوتھا ملک بھی بن گیا تھا۔ اب وکرم-1 کی کامیاب پرواز بھارت کے نجی خلائی پروگرام کے لیے ایک اور اہم سنگ میل تصور کی جا رہی ہے۔






