معاہدے کے اعلان کے بعد براڈکام کے حصص میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ براڈکام کئی برسوں سے آئی فونز میں استعمال ہونے والی ریڈیو فریکوئنسی، وائی فائی، بلوٹوتھ اور دیگر نیٹ ورکنگ چپس فراہم کر رہا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق ایپل براڈکام کی سالانہ آمدنی کا تقریباً 20 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔
اگرچہ ایپل اپنے کئی پروسیسرز، جیسے سی ون موڈیم، خود تیار کر رہا ہے، تاہم کمپنی اب بھی وائرلیس اور ریڈیو فریکوئنسی ٹیکنالوجی کے لیے براڈکام پر انحصار کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طویل المدتی معاہدہ دونوں کمپنیوں کے درمیان اعتماد کا اظہار ہے اور براڈکام کے لیے آئندہ کئی برس تک مستحکم آمدنی کو یقینی بنائے گا۔
دونوں کمپنیوں نے 2023 میں بھی کئی ارب ڈالر مالیت کے معاہدے کے تحت فائیو جی ریڈیو فریکوئنسی کمپوننٹس کی تیاری پر اتفاق کیا تھا، جبکہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جدید کسٹم چپس کی عالمی طلب میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: نئی آٹو پالیسی؛ کیا گاڑیاں واقعی عام آدمی کی پہنچ میں آ جائیں گی؟
ایپل اس وقت اپنے ایم سیریز اور اے سیریز پروسیسرز کی تیاری کے لیے تائیوان کی کمپنی ٹی ایس ایم سی پر انحصار کرتا ہے، تاہم اے آئی چپس کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ نے سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ اسی تناظر میں ایپل اہم سپلائرز کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے ذریعے اپنی مصنوعات کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔







