ماہرین کے مطابق اس روز عطارد، زہرہ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون ایک ہی سمت میں صف بندی کی صورت دکھائی دیں گے، جو دنیا کے بیشتر علاقوں میں جنوب مغربی افق پر نظر آ سکتے ہیں۔

عطارد سورج کے قریب ہونے کی وجہ سے غروبِ آفتاب کے فوراً بعد دکھائی دے گا، جبکہ زہرہ سب سے زیادہ روشن ہوگا۔ اس کے بعد مشتری اور زحل نظر آئیں گے، جنہیں ننگی آنکھ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

یورینس اور نیپچون چونکہ زیادہ دور اور مدھم سیارے ہیں، اس لیے انہیں دیکھنے کے لیے دوربین یا ٹیلی اسکوپ کی ضرورت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹنل بورنگ ٹرینج لیس ٹیکنالوجی، پنجاب کا ’سٹار پراجکیٹ‘ کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق یہ منظر غروبِ آفتاب کے تقریباً 30 سے 60 منٹ بعد بہتر طور پر دیکھا جا سکے گا، اور شام ساڑھے چھ سے ساڑھے سات بجے کے درمیان وقت سب سے موزوں ہوگا۔

فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ترتیب سیاروں کی سورج کے گرد یکساں سطح پر گردش کی وجہ سے بنتی ہے، جس کے باعث بعض اوقات زمین سے یہ ایک ہی قطار میں دکھائی دیتے ہیں۔

شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر آسمان صاف ہو تو اس نایاب فلکیاتی منظر سے ضرور لطف اٹھائیں، کیونکہ ایسا موقع شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔