نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں انسانی زندگی کو آسان بنایا ہے وہیں اس کے نفسیاتی اثرات پر تشویش بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے ایک بزنس مین نے بتایا کہ وہ چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ 300 گھنٹے سے زائد گفتگو کرتے رہے۔ اس دوران اے آئی چیٹ بوٹ نے انہیں یقین دلایا کہ انہوں نے ایک ایسا ریاضیاتی فارمولا دریافت کیا ہے جو دنیا کو بدل سکتا ہے۔ اس غلط یقین نے انہیں شدید وہم اور خوف میں مبتلا کر دیا اور وہ کئی ہفتے ذہنی دباؤ کا شکار رہے۔
مزید براں چیٹ جی پی ٹی نے بار بار بزنس مین کو غلط معلومات دیں اور یہاں تک دعویٰ کیا کہ ان کی گفتگو کمپنی کے ماہرین کو انسانی جانچ کے لیے بھیجی گئی ہے جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ تحقیق کرنے والے ماہر ایڈلر نے اس طرز عمل کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا اور کہا کہ ایک لمحے کے لیے وہ خود بھی بوٹ کی باتوں پر یقین کرنے لگے تھے۔
اوپن اے آئی نے وضاحت کی کہ یہ واقعہ چیٹ جی پی ٹی کے پرانے ورژن کے ساتھ پیش آیا اور اب نئے اپ ڈیٹس میں ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے بہتری لائی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ ماہرین نفسیات کے ساتھ مل کر ایسے صارفین کو رہنمائی فراہم کر رہی ہے جو طویل گفتگو کے دوران ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں اور انہیں وقفہ لینے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ اب تک کم از کم 17 ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں صارفین نے طویل چیٹ کے بعد غیر حقیقی عقائد یا وہمی خیالات پیدا کیے۔ ان میں سے تین کیسز چیٹ جی پی ٹی سے منسلک پائے گئے۔ ایک کیس میں 35 سالہ الیکس ٹیلر نامی شخص اپنے وہم پر مبنی بحران کے دوران پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔
واضع رہے کہ سیفٹی ریسرچر نے اس رویے کو سائیکوفینسی قرار دیا جس کا مطلب ہے مصنوعی ذہانت کا حد سے زیادہ ہاں میں ہاں ملانا اور صارف کے غلط تصورات کو تقویت دینا۔ ان کے مطابق یہ صرف تکنیکی خرابی نہیں بلکہ ایک واضح رجحان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ توازن اور احتیاط اپنانا اب پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے تاکہ انسان اور مصنوعی ذہانت کے درمیان محفوظ فاصلہ برقرار رکھا جا سکے۔






