غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ’نائٹروجن‘ نامی رینسم ویئر گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے 8 ٹیرا بائٹ سے زائد ڈیٹا حاصل کیا، جس میں ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ فائلیں شامل ہیں۔
ہیکرز کا دعویٰ ہے کہ چوری شدہ ڈیٹا میں ایپل، گوگل، انٹیل، ڈیل، این ویڈیا اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خفیہ منصوبے، ڈرائنگز، ہدایات اور حساس معلومات شامل ہیں۔
واضح رہے کہ فاکس کون دنیا بھر میں ایپل آئی فونز کے سب سے بڑے اسمبلر کے طور پر جانی جاتی ہے، جب کہ یہ گوگل، این ویڈیا اور دیگر عالمی کمپنیوں کے لیے بھی الیکٹرانکس مصنوعات تیار کرتی ہے۔
کمپنی کے ترجمان نے تصدیق کی کہ شمالی امریکا میں قائم بعض فیکٹریاں سائبر حملے سے متاثر ہوئیں، تاہم کمپنی کی سائبر سیکیورٹی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اضافی حفاظتی اقدامات نافذ کیے تاکہ پیداوار اور سپلائی کا عمل متاثر نہ ہو۔
ترجمان کے مطابق متاثرہ فیکٹریاں اب معمول کی پیداوار بحال کر رہی ہیں، تاہم انہوں نے حملے کے وقت، متاثرہ سسٹمز یا ممکنہ تاوان کے مطالبات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب نائٹروجن گروپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر تاوان ادا نہ کیا گیا تو چوری شدہ معلومات لیک کر دی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: پاکستان آٹو پالیسی 2026–31: اصلاحات کے باوجود حتمی منظوری کیوں نہیں مل رہی؟
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق نائٹروجن گروپ 2023 سے سرگرم ہے اور یہ مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی اور تعمیراتی شعبوں کی کمپنیوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گروپ پہلے ڈیٹا چوری کرتا ہے اور پھر سسٹمز کو انکرپٹ کر کے کمپنیوں پر دباؤ بڑھاتا ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی سپلائی چینز بھی سائبر حملوں کے خطرات سے محفوظ نہیں رہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی صنعتیں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر زیادہ انحصار کر رہی ہیں۔







