مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سموگ گنز وقتی طور پر چند سو میٹر کے علاقے میں آلودگی کو کم کرسکتی ہیں ، بھارت میں360 سموگ گنز ہیں جبکہ پنجاب حکومت نے صرف 15 سموگ گنز منگوائی ہیں ۔
صوبائی سینئر وزیر نے دعویٰ کیا کہ 64 لاکھ ایکڑ پر دھان کی کاشت کی گئی جبکہ صرف 700 ایکڑ کی فصلوں کو جلایا گیا ۔ پنجاب حکومت نے کسانوں کو فائدہ پہچانے کیلئے مقامی سطح پر 5000 سپر سیڈرز تیار کئے ، سپر سیڈرز کیلئے آٹھ لاکھ پنجاب حکومت نے ادا کئے جبکہ کسان نے پانچ لاکھ روپے دئیے۔
پنجاب حکومت مسلسل ماحولیات کے تحفظ پر کام کر رہی ہے ، اسکے لئے بہترین بیوروکریٹس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ، انہوں نے چیلنج کیا کہ کوئی بھی فرد اپنا ڈرون اڑا کر ایک بھی بھٹہ کالا دھواں چھوڑتا نہیں دکھا سکتا، فیکٹریز کے ویسٹ کی نگرانی کا بھی بہترین نظام بنادیا گیا ہے۔
مریم اورنگزیب کے مطابق کسانوں پر سختی مسئلے کا حل نہیں بلکہ انہیں متبادل ٹیکنالوجی فراہم کی جا رہی ہے ، سختی ، آگاہی اور متبادل ذرائع فراہم کرنے کے باعث آج کسان کے اندر شعور آیا ہے، سپر سیڈرز کی وجہ سے کسانوں کی کھاد ، بیچ اور زمین کی تیاری پر اخراجات کم ہورہے ہیں جبکہ فصل میں بھی دس سے بیس من اضافی پیدوار حاصل ہورہی ہے ۔
سینئر وزیر نے ننکانہ صاحب میں چاول کے کھیت میں پرانے طریقوں اور جدید ذرائع سے کٹائی کے جائزہ بھی پیش کیا ، انہوں نے بتایا کہ چاول کی باقیات کھیتوں میں جلنے کی بجائے ان فیکٹریوں کو بیچی جائے گی جو پلاسٹک اور دیگر زہریلے ذرائع ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ چین میں سیاسی عزم کی وجہ سے سموگ پر قابو پایا گیا ، پنجاب بھی سیاسی عزم ہی کی بنیاد پر کام کر رہا ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کیلئے کوئی بھی سیاسی دباو برداشت نہیں کیا جارہا ، قصور میں ایک بھٹہ مالک نے دھمکی دی کہ جو بھی بھٹہ گرانے کیلئے آئے گا ، اس پر گولی چلائی جائے گی ، میں خود وہ بھٹہ گرانے پہنچی ۔مریم اونرگزیب کے مطابق پنجاب میں 5 لاکھ گاڑیوں کو مفت سرٹیفکیٹ تقسیم کئے گئے ، اب جو بھی گاڑی دھواں چھوڑتی نظر آئی ، اسے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے چالان کیا جائے گا اور تین بار چالان کے بعد گاڑی ہی ضبط کرلی جائے گی۔







