تفصیلات کے مطابق 21 مئی 2026 کو تیار کی گئی پروگرام انفارمیشن دستاویز کے تحت ورلڈ بینک اس منصوبے کے لیے 70 ملین ڈالر فراہم کرے گا۔ اس رقم میں 68 ملین ڈالر پروگرام فار رزلٹس فنانسنگ، جب کہ 2 ملین ڈالر تکنیکی معاونت کے لیے انویسٹمنٹ پروجیکٹ فنانسنگ کے تحت شامل ہوں گے۔ پنجاب حکومت اس منصوبے میں اپنے وسائل سے 179 ملین ڈالر فراہم کرے گی۔

یہ پروگرام پنجاب ریسورس مینجمنٹ اینڈ پالیسی یونٹ، پنجاب ریونیو اتھارٹی اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جب کہ اسے 26 جون 2026 کو ورلڈ بینک بورڈ کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

منصوبہ پنجاب کی ترقیاتی حکمتِ عملی 2026-31 کے تحت گورننس، ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت سے متعلق وسیع پالیسی کا حصہ ہے۔ یہ پروگرام ڈیجیٹل پاکستان وژن اور ورلڈ بینک گروپ کی ڈیجیٹل حکمتِ عملی 2025 سے بھی ہم آہنگ ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق موبائل براڈ بینڈ تک رسائی میں بہتری کے باوجود پاکستان کو تیز رفتار انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کے حوالے سے سنگین ساختی مسائل کا سامنا ہے۔ ملک بھر میں صرف 26 لاکھ فائبر ٹو دی ہوم کنکشن موجود ہیں، جن میں سے نصف پنجاب میں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ملک کے تقریباً 58 ہزار موبائل ٹاورز میں سے صرف 17.9 فیصد فائبر نیٹ ورکس سے منسلک ہیں، جس کے باعث ڈیجیٹل خدمات کے معیار اور استحکام پر اثر پڑ رہا ہے۔

پروگرام کے پہلے رزلٹ ایریا کے تحت پنجاب حکومت فکسڈ براڈ بینڈ انفراسٹرکچر میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے رائٹ آف وے منظوریوں کے نظام کو آسان بنائے گی، جب کہ کم سہولت یافتہ شہری علاقوں میں انفراسٹرکچر کی تنصیب کے اخراجات میں جزوی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔

اس مقصد کے لیے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے e-Biz پورٹل اور OneMap جغرافیائی پلیٹ فارم سے منسلک ایک ڈیجیٹل رائٹ آف وے منظوری پلیٹ فارم متعارف کرایا جائے گا، تاکہ انتظامی تاخیر کم ہو اور منظوریوں کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

پروگرام کے تحت مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی کے لیے مشترکہ کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر بھی قائم کیا جائے گا۔ اس میں جی پی یو سے لیس کمپیوٹ ایز اے سروس سہولیات شامل ہوں گی، جو سرکاری اداروں، اسٹارٹ اپس، جامعات اور محققین کے لیے دستیاب ہوں گی۔

حکومتِ پنجاب مہنگے بنیادی اے آئی ماڈلز میں سرمایہ کاری کے بجائے عوامی خدمات اور انتظامی امور سے متعلق مقامی اے آئی ایپلی کیشنز کی تیاری پر توجہ دے گی۔

پروگرام کے دوسرے رزلٹ ایریا کے تحت اے آئی پر مبنی شہری خدمات، اوپن ڈیٹا سسٹمز، ڈیٹا گورننس فریم ورک، سائبر سیکیورٹی پروٹوکولز اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق حکمتِ عملیوں کو فروغ دیا جائے گا۔

تیسرے رزلٹ ایریا میں ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم، ڈیجیٹل پوائنٹ آف سیل پلیٹ فارمز اور الیکٹرانک ادائیگی کے نظام کو فروغ دے کر کیش لیس معیشت کی جانب پیش رفت کی جائے گی۔

ورلڈ بینک کے مطابق پنجاب کی معیشت میں نقد لین دین پر زیادہ انحصار شفافیت، لین دین کی نگرانی اور معیشت کی دستاویزی شکل میں رکاوٹ بنتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور انوائسنگ نظام کے فروغ سے فن ٹیک شعبے میں جدت، ٹیکس نظام کی بہتری اور مالی شمولیت میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

دستاویز کے مطابق یہ پروگرام انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے تعاون سے ون ورلڈ بینک گروپ حکمتِ عملی کے تحت تیار کیا جا رہا ہے، تاکہ براڈ بینڈ انفراسٹرکچر میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔

ورلڈ بینک نے منصوبے سے متعلق مجموعی ماحولیاتی اور سماجی خطرات کو اعتدال پسند قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کم آمدنی والے طبقات کے ڈیجیٹل اخراج، ڈیجیٹل ٹیکس نظام کے خلاف کاروباری مزاحمت، سائبر سیکیورٹی خطرات، شہری ڈیٹا سسٹمز سے متعلق رازداری کے خدشات اور ای ویسٹ جیسے ماحولیاتی مسائل کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق پنجاب کی ڈیجیٹلائزیشن حکمتِ عملی صوبے میں معاشی ترقی، عوامی خدمات کی بہتری، مالی شمولیت کے فروغ اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔