ماہرین کے مطابق گھوسٹ پیئرنگ نامی یہ جعلسازی واٹس ایپ کے ایک مستند فیچر کو استعمال کرتے ہوئے صارفین کو دھوکے سے اُن کے اکاؤنٹ ایسے ڈیوائس سے منسلک کرواتی ہے جو ہیکرز کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہیکرز کو صارف کے واٹس ایپ پیغامات، تصاویر، ویڈیوز، وائس نوٹس اور دیگر ڈیٹا تک مکمل رسائی مل جاتی ہے۔

اکاؤنٹ پر قبضہ ہونے کے بعد ہیکرز متاثرہ صارف کے کانٹیکٹس کو بھی پیغامات بھیج سکتے ہیں تاکہ ہیکنگ کی مزید کوششیں کی جا سکیں اور مزید لوگوں کو جال میں پھنسایا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق یہ جعلسازی صرف ایک میسج کے ذریعے کی جاتی ہے، جو بظاہر متاثرہ شخص کو اس کے کسی جاننے والے کے نمبر سے موصول ہوتا ہے۔

اس میسج میں موجود لنک صارف کو تصویر دکھانے کے بہانے ایک جعلی فیس بک لاگ اِن پیج پر لے جاتا ہے، جہاں دی گئی معلومات ہیکرز کو متاثرہ فون تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ نامعلوم یا مشکوک لنکس پر ہرگز کلک نہ کریں اور کسی بھی غیر معمولی لاگ اِن یا ڈیوائس لنکنگ کی اطلاع کو فوراً مسترد کریں۔