مقامی اخبار مائیل بزنس کے مطابق سام سنگ الیکٹرانکس اور ایس کے ہائنکس کے اعلیٰ حکام پیر کے روز صدر لی جے میونگ سے ملاقات کے دوران اپنی سرمایہ کاری کے منصوبے پیش کریں گے۔ ان منصوبوں کا زیادہ تر فوکس سیول سے باہر مختلف علاقوں میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق سام سنگ کی مجوزہ سرمایہ کاری میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز، بیٹریوں، ڈسپلے ٹیکنالوجی اور جنوب مغربی جنوبی کوریا میں تقریباً 300 کھرب وون کی لاگت سے نئے سیمی کنڈکٹر کارخانوں کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اے آئی اور سیمی کنڈکٹر صنعت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صنعتی سرگرمیوں کو صرف سیول تک محدود رکھنے کے بجائے ملک کے دیگر علاقوں تک وسعت دینا چاہتی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی کمی اور ہنر مند افرادی قوت کی محدود دستیابی اس منصوبے کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
صدارتی دفتر نے پیر کو "تین میگا منصوبوں" کے اعلان کی تصدیق کی ہے، جن میں سیمی کنڈکٹرز، اے آئی ڈیٹا سینٹرز اور روبوٹکس کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: کینیڈا کا اے آئی فار آل پروگرام: 2.5 لاکھ ملازمتوں اور کروڑوں ڈالر کے ٹیک فنڈز کا فیصلہ
دوسری جانب اپوزیشن جماعت پیپلز پاور پارٹی نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سیاسی مقاصد کے تحت کمپنیوں کو حکمران جماعت کے مضبوط سیاسی علاقوں میں سرمایہ کاری پر آمادہ کر رہی ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ نئی چِپ فیکٹریاں کہاں قائم ہوں گی، اس کا فیصلہ حکومت کے بجائے متعلقہ کمپنیاں خود کریں۔
واضح رہے کہ جنوبی کوریا دنیا میں ڈرام میموری چِپس کی پیداوار کا سب سے بڑا مرکز ہے، جبکہ سام سنگ الیکٹرانکس عالمی سطح پر اس شعبے کی سب سے بڑی کمپنی سمجھی جاتی ہے۔ اے آئی ٹیکنالوجی کے فروغ کے باعث میموری چِپس کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جسے جنوبی کوریا اپنی طویل مدتی معاشی ترقی کے لیے ایک اہم موقع قرار دے رہا ہے۔







