جرمن ایرو اسپیس سینٹر جرمن ایرو اسپیس سینٹر (DLR) کے انجینئرز نے اپنے تجرباتی طیارے PROTEUS تجرباتی طیارہ پر ان جدید پروں کے کامیاب تجربات کیے ہیں۔ یہ پر پرواز کے دوران ہوا کے دباؤ، ٹربولنس اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق اپنی ساخت میں فوری تبدیلی لا سکتے ہیں، جس سے طیارے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی میں جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی کنٹرول نظام اور انتہائی لچکدار مرکب مواد استعمال کیا گیا ہے۔ اس نظام نے روایتی فلیپس کو تبدیل کرتے ہوئے ذہین محرکات متعارف کروائے ہیں، جو پرواز کے دوران ہوا کی مزاحمت کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور مجموعی طور پر ایندھن کی کھپت میں واضح کمی لاتے ہیں۔
German engineers successfully flight-test morphing wing system that changes shape during flight under DLR’s morphAIR project.
— Bloom Pakistan (@bloom_pakistan) April 23, 2026
This technology allows aircraft to adapt their wing profiles in real-time, matching specific flight conditions for peak efficiency and safety.
The… pic.twitter.com/8mTyz6NEol
تحقیقی ٹیم کے مطابق ان اسمارٹ پروں کی بدولت نہ صرف طیاروں کی رفتار اور استحکام میں بہتری آئے گی بلکہ پرواز کے دوران حفاظت کے معیار بھی مزید بلند ہوں گے۔ خاص طور پر شدید موسم یا غیر متوقع فضائی حالات میں یہ ٹیکنالوجی طیارے کو خودکار طور پر ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ہوا بازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ایوی ایشن انڈسٹری میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور مستقبل میں تجارتی طیاروں کے ڈیزائن کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی بغیر پائلٹ طیاروں کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے ان کی کارکردگی، حفاظت اور توانائی کی بچت میں نمایاں بہتری آئے گی۔
واضح رہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنایا گیا تو آنے والے سالوں میں ہوائی سفر زیادہ محفوظ، سستا اور ماحول دوست بن سکتا ہے۔







