برطانوی حکام کے مطابق گزشتہ سال بکنگھم شائر کے علاقے بلیچلی میں واقع ایک ری سائیکلنگ سہولت میں لگنے والی تباہ کن آگ نے نہ صرف 10 لاکھ پاؤنڈ سے زائد مالیت کی عمارت کو نقصان پہنچایا بلکہ قریبی علاقوں میں ویسٹ کلیکشن سروسز بھی متاثر ہوئیں۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اس آگ کی ممکنہ وجہ کچرے کے ڈھیر میں موجود بیٹریاں تھیں، جو دبنے یا نقصان پہنچنے کے باعث شدید ردعمل کا باعث بنیں۔
ویسٹ مینجمنٹ کمپنی “ویولیا” کے مطابق صرف 2025 کے دوران اس کے مختلف مراکز اور گاڑیوں میں 370 آگ کے واقعات ایسے رپورٹ ہوئے جن کی بنیادی وجہ لیتھیم بیٹریاں یا ان سے جڑے آلات تھے۔
اسی طرح ماحولیاتی خدمات سے وابستہ اداروں کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2023-24 کے دوران برطانیہ میں بیٹریوں سے جڑی آگ کے 1200 سے زائد واقعات سامنے آئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 71 فیصد زیادہ ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں ملک بھر میں تقریباً 6 ارب بیٹریاں ضائع کی گئیں، یعنی اوسطاً ہر منٹ میں تقریباً 3000 بیٹریاں پھینکی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان میں بڑی تعداد ایسے آلات میں موجود ہوتی ہے جیسے موبائل فونز، الیکٹرک ٹوتھ برش، ڈسپوزیبل وپس اور دیگر گھریلو الیکٹرانک مصنوعات۔
فائر اینڈ ریسکیو سروسز کے ماہرین کے مطابق لیتھیم آئن بیٹریاں اس وقت انتہائی خطرناک ہو جاتی ہیں جب انہیں نقصان پہنچے، جیسے کچرے میں دب جانا، کچل جانا یا پنکچر ہو جانا۔
نارتھمپٹن شائر فائر اینڈ ریسکیو سروس کے سینئر افسر اسکاٹ ہیرونز کے مطابق جب بیٹری کے اندرونی کیمیکل اجزا متاثر ہوتے ہیں تو ایک خطرناک عمل شروع ہوتا ہے جسے “تھرمل رن وے” کہا جاتا ہے۔
اس عمل کے دوران بیٹری خود بخود شدید حرارت، زہریلی گیسیں اور آگ پیدا کرتی ہے، جو بعض اوقات انتہائی تیزی سے پھیل جاتی ہے۔
یاد رہے کہ عام آگ کے مقابلے میں بیٹری سے لگنے والی آگ زیادہ خطرناک اس لیے ہوتی ہے کیونکہ یہ خود اپنا آکسیجن لیول پیدا کر سکتی ہے، جس سے اسے بجھانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ مسئلہ صرف علیحدہ بیٹریوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ایسے آلات بھی خطرہ بن رہے ہیں جن میں بیٹریاں اندر نصب ہوتی ہیں، جیسے ڈسپوزیبل وپس، الیکٹرک برش اور حتیٰ کہ میوزیکل کارڈز بھی۔
یہ اشیا کچرا اکٹھا کرنے کے دوران دباؤ یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں، جس سے آگ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان واقعات کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی عمارتیں اور مشینری تباہ ہو رہی ہیں بلکہ انشورنس اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کچرا مینجمنٹ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ متعدد ویسٹ سائٹس کو انشورنس حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، اور بڑھتے ہوئے اخراجات بالآخر مقامی حکومتوں اور عوام پر منتقل ہو رہے ہیں۔
کچھ کیسز میں تو ری سائیکلنگ مراکز کی منظوری بھی منسوخ کر دی گئی، جس سے مقامی سطح پر کچرا ٹھکانے لگانے کے نظام میں خلل پیدا ہوا۔
ویسٹ انڈسٹری کے نمائندے مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ عوام بیٹریوں کو عام کچرے میں نہ پھینکیں بلکہ انہیں مخصوص ری سائیکلنگ پوائنٹس پر جمع کرائیں۔
کئی علاقوں میں سپر مارکیٹس اور ویسٹ سینٹرز میں بیٹری کلیکشن بکس فراہم کیے گئے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام اب بھی ناکافی ہے اور اسے ملک بھر میں مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
کچرا مینجمنٹ کمپنیوں نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ بیٹری اور الیکٹرانک مصنوعات بنانے والی کمپنیوں پر ایک “پروڈیوسر فنڈڈ سسٹم” نافذ کیا جائے تاکہ وہ اس فضلے کی ری سائیکلنگ اور حفاظتی اقدامات کی لاگت برداشت کریں۔
برطانوی محکمہ ماحولیات کے مطابق حکومت بیٹری سے متعلق قوانین کا جائزہ لے رہی ہے اور عوام کو مسلسل آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ بیٹریاں عام کچرے میں نہ پھینکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر عوام نے احتیاط نہ کی تو یہ بظاہر چھوٹی بیٹریاں بڑے پیمانے پر خطرناک آگ، مالی نقصان اور ماحولیاتی بحران کا باعث بنتی رہیں گی۔







