برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق دو کوون ڈیجیٹل کرنسیوں ٹیرا یو ایس ڈی اور لونا کے خالق اور سنگاپور میں قائم کمپنی ٹیرافارم لیبز کے شریک بانی تھے، جن کے اچانک کریش ہونے سے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو تقریباً 40 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
دو کوون نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ٹیرا یو ایس ڈی کے بارے میں سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا۔ یہ کرنسی ایک اسٹیبل کوائن کے طور پر پیش کی گئی تھی، جس کا مقصد امریکی ڈالرز کے برابر اپنی قدر برقرار رکھنا تھا، مگر 2022 میں اس کی تباہ کن گراوٹ نے عالمی کرپٹو مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔
سزا سناتے ہوئے امریکی ڈسٹرکٹ جج پال اے. اینگلمائر نے کہا کہ ملزم نے بارہا اُن سرمایہ کاروں سے جھوٹ بولا جنہوں نے اس پر بھروسہ کیا۔
Breaking News: Do Kwon, who pleaded guilty to fraud after cryptocurrencies he created crashed and wiped out investors, was sentenced to 15 years in prison.https://t.co/9aenw8CX9g
— The New York Times (@nytimes) December 11, 2025
جج نے کارروائی کے دوران کہا کہ یہ ایک بہت بڑا، وسیع اور نسلی سطح پر اثر رکھنے والا فراڈ تھا۔ وفاقی مقدمات کی تاریخ میں بہت کم دھوکے ایسے ہیں جنہوں نے اس قدر نقصان پہنچایا ہو۔
سزا پانے والے دو کوون نے دھوکہ دہی اور وائر فراڈ کی سازش کا اعتراف اگست میں کیا تھا۔ عدالت میں انہوں نے کہا تھا کہ میں نے گزشتہ چند سال مسلسل یہی سوچتے گزارے کہ میں کیا مختلف کر سکتا تھا اور اب کیا کر سکتا ہوں کہ حالات درست ہو جائیں۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق مئی 2021 میں جب ٹیرا یو ایس ڈی ایک ڈالر کی مقررہ قیمت سے گر گیا تو دو کوون نے دعویٰ کیا کہ مخصوص الگورتھم نے اس کی قدر خود بخود بحال کر دی ہے۔
تاہم عدالت کے مطابق حقیقت یہ تھی کہ دو کوون نے خفیہ طور پر ایک تجارتی فرم کے ذریعے لاکھوں ڈالر کے کوائن خریدوا کر قیمت مصنوعی طور پر اوپر رکھی۔






