اس حکمتِ عملی میں مقامی اے آئی کمپنیوں کی مدد کے لیے 50 کروڑ کینیڈین ڈالر کا ایک نیا ٹیک فنڈ بھی شامل ہے۔
"سب کے لیے اے آئی" (اے آئی فار آل) نامی اس حکمتِ عملی کا اعلان وزیرِ اعظم مارک کارنی نے ایسے وقت میں کیا ہے جب ملک کی سب سے بڑی کمپنیاں نئے ٹولز تیار کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں
جن کے بارے میں انہیں امید ہے کہ وہ معلومات پر تیزی سے کارروائی کریں گے اور کینیڈا کی تاریخی طور پر کم پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں گے۔
ٹورنٹو میں کارنی کی جانب سے پیش کردہ اس حکمتِ عملی کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
حکومت کو توقع ہے کہ اس حکمتِ عملی سے ملک کی مجموعی ملکی پیداوار میں 3 فیصد اضافہ ہوگا، جس سے تقریباً 200 ارب کینیڈین ڈالر کی راہیں کھلیں گی کیونکہ اہم شعبوں میں اے آئی کے تجارتی استعمال سے لیبر کی پیداواری صلاحیت بڑھے گی۔ کینیڈا کے ڈیجیٹل سیکٹر میں اس وقت لگ بھگ 800,000 ملازمین کام کر رہے ہیں اور یہ جی ڈی پی میں 140 ارب کینیڈین ڈالر سے زیادہ کا حصہ ڈالتا ہے، جس میں سے 150,000 ملازمتیں براہِ راست اے آئی سے وابستہ ہیں۔
کینیڈا 50 کروڑ کینیڈین ڈالر کا کینیڈین ٹیک گروتھ فنڈ قائم کرے گا تاکہ کینیڈا کی اے آئی کمپنیوں اور امریکی ٹیک کمپنیوں کے درمیان سرمائے کے فرق کو ختم کیا جا سکے۔ یہ فنڈ وفاقی حکومت کو کینیڈا کی اے آئی کمپنیوں میں ایکویٹی اسٹیکس (حصص) لینے کے قابل بھی بنائے گا۔
مزید پڑھیں: تائیوان تنازع؛ چین اور امریکا کے درمیان کشیدگی سے اے آئی انڈسٹری متاثر ہونے کا خدشہ
حکومت کینیڈا کے بزنس ڈیولپمنٹ بینک کی جانب سے 50 کروڑ کینیڈین ڈالر کے ایک اقدام کو استعمال کرے گی تاکہ کینیڈا کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے اے آئی ٹولز تک رسائی کی مالی اعانت کی جا سکے۔
کینیڈا نے بچوں کی معلومات اور آن لائن سرگرمیوں کے تحفظ، ڈیپ فیکس کے تدارک اور ذاتی ڈیٹا پر صارفین کے کنٹرول کو مضبوط بنانے کے لیے صارفین کی رازداری کا نیا قانون متعارف کرانے کے منصوبوں کا اعادہ کیا۔ حکومت اے آئی کے ابھرتے ہوئے خطرات کا سراغ لگانے اور اے آئی ماڈلز کے شفاف جائزوں کے لیے 5 کروڑ کینیڈین ڈالر بھی سرمایہ کاری کرے گی۔ تاہم، ان ضوابط کے نفاذ کے لیے کسی ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا گیا۔







