رپورٹس کے مطابق ایپل کی مجموعی مارکیٹ مالیت 4.88 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ اینویڈیا کی مالیت 4.86 کھرب ڈالر رہی۔ اینویڈیا کے حصص میں 3.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ایپل کے حصص مستحکم رہے، جس کے نتیجے میں کمپنی دوبارہ پہلی پوزیشن پر آ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اب صرف اے آئی چِپ بنانے والی کمپنیوں پر انحصار کرنے کے بجائے ان اداروں پر بھی توجہ دے رہے ہیں جو مصنوعی ذہانت کو اپنی سروسز، سافٹ ویئر اور ہارڈویئر کے ذریعے بہتر انداز میں تجارتی کامیابی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ایپل نے گزشتہ سال اپریل کے بعد پہلی بار دوبارہ دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی کا مقام حاصل کیا ہے۔
بی آر آئی ویلتھ مینجمنٹ کے سرمایہ کاری سربراہ ٹونی میڈوز کے مطابق ماضی میں ایپل کو مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیچھے سمجھا جاتا تھا، لیکن اب سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے کیونکہ کمپنی اپنی مضبوط سروسز، مربوط ایکو سسٹم اور نئے ہارڈویئر کی بدولت اے آئی سے زیادہ پائیدار منافع حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایپل کی یہ پیش رفت کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک کی قیادت کے آخری مرحلے میں ایک اہم کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹم کک ستمبر میں اپنی ذمہ داریاں ایپل کے ہارڈویئر شعبے کے سربراہ جان ٹرنس کے حوالے کریں گے۔
گزشتہ ماہ ایپل نے اپنے صوتی معاون سِری کا جدید اور بہتر ورژن متعارف کرایا، جس کا مقصد گوگل، مائیکروسافٹ اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنانا ہے۔
مزید پڑھیں: گلابی ہونٹ، کالا چہرہ؛ بندر کی نئی نسل کانگو کے جنگلات میں دریافت
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی فونز میں محفوظ صارفین کا ذاتی ڈیٹا ایپل کے لیے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک بڑی طاقت ثابت ہو سکتا ہے، تاہم کمپنی کو صارفین کی رازداری برقرار رکھتے ہوئے اس ڈیٹا سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھانے کا طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔






