بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق رینسم ویئر گروہ ورلڈ لیکس نے ڈارک ویب پر کڈنکولم جوہری توانائی مرکز سے متعلق ہزاروں دستاویزات جاری کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان دستاویزات میں مبینہ طور پر پلانٹ کے بعض حصوں کے نقشے، سامان فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تفصیلات، معائنوں اور اجلاسوں کے ریکارڈ، آلات کے جائزے اور بیمہ سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔
کڈنکولم جوہری توانائی مرکز بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں واقع ہے اور اسے ملک کا سب سے بڑا جوہری بجلی گھر تصور کیا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے جوہری توانائی کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے کا اہم حصہ ہے۔
پلانٹ کے تعمیراتی منصوبوں سے وابستہ ریلائنس گروپ نے تصدیق کی ہے کہ تیسرے فریق کے ایک معلوماتی مرکز کے سرور پر اس کے بعض ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کی گئی تھی۔ کمپنی کے مطابق واقعے سے متعلق حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کون سا ڈیٹا متاثر ہوا۔
آزاد سائبر سکیورٹی ماہر کے مطابق تقریباً 19 ہزار فائلیں کئی ہفتوں سے ڈارک ویب پر موجود ہیں، جن کا مجموعی حجم 14.3 گیگا بائٹ بتایا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے نے ان دستاویزات کا جائزہ لیا، تاہم ان کی مکمل صداقت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب بھارتی جوہری توانائی کارپوریشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ منظرِ عام پر آنے والی معلومات صرف عام خدمات سے متعلق ہیں اور ان کا جوہری حفاظت یا جوہری سکیورٹی کے نظام سے کوئی تعلق نہیں۔ ادارے کے مطابق عوام کو اس معاملے پر تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کا مصنوعی ذہانت کے لیے "آفس آف اے آئی" قائم کرنے کا فیصلہ
بھارت کی قومی سائبر سکیورٹی ایجنسی اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ حساس تنصیبات سے متعلق معلومات کے افشا ہونے کے دعوے سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں اور ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔






