فرنٹیئر اکنامکس کی جانب سے VEON کے لیے تیار کی گئی رپورٹ کے مطابق موبائل فون کے استعمال میں ہر ایک فیصد اضافے سے پاکستان کی فی کس جی ڈی پی کی شرحِ نمو میں 0.115 فیصد پوائنٹس اضافہ ہوتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جدید ڈیجیٹل معیشت میں موبائل نیٹ ورکس کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کے باعث اس کے معاشی اثرات بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہو گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ تک رسائی نہ صرف عوام کی روزمرہ زندگی آسان بنا رہی ہے بلکہ کاروبار، تعلیم، صحت، بینکاری اور روزگار کے شعبوں میں بھی بڑی تبدیلیاں لا رہی ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے موبائل کنیکٹیویٹی معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
جاز ورلڈ کے ڈپٹی چیف فنانشل آفیسر اور ہیڈ آف ٹیکس خیام مشیر نے کہا کہ پاکستان کا ڈیجیٹل مستقبل اس بات سے جڑا ہوا ہے کہ عام شہری کے لیے موبائل انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز کو کس حد تک سستا اور قابلِ رسائی بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موبائل فونز، انٹرنیٹ سروسز اور اسمارٹ فونز پر بھاری ٹیکس عوام کی ڈیجیٹل رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں، زیادہ ٹیکس کی وجہ سے لاکھوں افراد جدید ڈیجیٹل سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں، جس سے تعلیم، آن لائن صحت کی سہولیات، مالیاتی خدمات اور روزگار کے مواقع متاثر ہوتے ہیں۔
خیام مشیر کا کہنا تھا کہ اگر حکومت متوازن ٹیکس پالیسی اپنائے تو اس کے مثبت اثرات طویل مدت میں معیشت پر مرتب ہوں گے، اگرچہ ابتدا میں حکومتی آمدن میں کچھ کمی آ سکتی ہے، لیکن زیادہ ڈیجیٹل شمولیت سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، فی کس آمدنی بڑھے گی اور بالآخر حکومت کو زیادہ ٹیکس ریونیو حاصل ہوگا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موبائل کنیکٹیویٹی لین دین کے اخراجات کم کرتی ہے، معلومات تک رسائی آسان بناتی ہے اور کاروباری پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل لین دین معیشت کو دستاویزی بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو رہا ہے کیونکہ آن لائن ٹرانزیکشنز کو آسانی سے ریکارڈ اور ٹیکس کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان میں صرف 18 فیصد بالغ افراد کے پاس بینک اکاؤنٹس موجود تھے، جس کے باعث موبائل پر مبنی مالیاتی خدمات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، موبائل بینکنگ اور ڈیجیٹل والٹس ملک میں مالیاتی شمولیت بڑھانے کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اگر پاکستان میں موبائل اور انٹرنیٹ خدمات پر ٹیکسوں میں کمی کی جائے اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنایا جائے تو نہ صرف معیشت کو فائدہ ہوگا بلکہ روزگار، تعلیم اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
رپورٹ کے اختتام میں خبردار کیا گیا کہ موبائل سروسز پر زیادہ ٹیکس اور مہنگی ڈیجیٹل سہولیات پاکستان کی طویل المدتی معاشی ترقی کی رفتار کو سست کر سکتی ہیں، اس لیے حکومت کو اس شعبے میں متوازن اور مستقبل دوست پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔







