کیلگری یونیورسٹی اور کینیڈا کی نیشنل ریسرچ کونسل کے محققین کے ذریعے کیے گئے ایک تجربے کے مطابق اس روشنی کو الٹرا ویک فوٹان ایمیشن کہا جاتا ہے۔ یہ روشنی انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتی لیکن مکمل اندھیرے والے ماحول میں انتہائی حساس آلات کے ذریعے دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ تحقیق ڈاکٹر ڈینیئل اوبلک کی سربراہی میں کی گئی جس کے دوران سائنسدانوں نے زندہ اور مردہ چوہوں کے علاوہ کٹے ہوئے پتوں کا معائنہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ زندہ چوہے نسبتاً زیادہ روشنی خارج کرتے ہیں جبکہ مردہ چوہوں سے یہ روشنی مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی۔

اسی طرح جب ایک پتے کو کاٹا گیا تو اس کے کٹے ہوئے حصے سے روشنی میں اضافہ دیکھا گیا جو جسم میں آکسیڈیٹیو اسٹریس بڑھنے کی علامت ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ روشنی جسم کے میٹابولزم یعنی توانائی پیدا کرنے کے قدرتی عمل سے پیدا ہوتی ہے۔ اس دوران جسم میں موجود خلیے ایسے غیر مستحکم مالیکیولز بناتے ہیں جو توانائی خارج کرتے ہیں اور یہی توانائی روشنی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے یا بیماری لاحق ہوتی ہے ویسے ویسے آکسیڈیٹیو اسٹریس بھی بڑھتا ہے جس سے یہ روشنی مزید بڑھ جاتی ہے۔

Featured image (3) (27)
 ایک پتے کو کاٹا گیا تو اس کے کٹے ہوئے حصے سے روشنی میں اضافہ دیکھا گیا۔ (تصویر: آج نیوز)

ڈاکٹر ڈینیئل اوبلک نے کہا ہے کہ الٹرا ویک فوٹان ایمیشن کو صحت کی غیر مداخلتی نگرانی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی انسانی یا حیوانی جسم کو نقصان پہنچائے بغیر اس کی اندرونی کیفیت کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہے۔

اس طریقہ کار کو مستقبل میں اعضا کی پیوندکاری، فصلوں اور جنگلات کی صحت کی جانچ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں تاہم اس روشنی کو ناپنے والی موجودہ ٹیکنالوجی ابھی پیچیدہ اور محدود ہے۔ تحقیق مکمل طور پر سائنسی بنیادوں پر کی گئی ہے اور اس کا روحانی یا غیر سائنسی نظریات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔