انہوں نے بتایا کہ یہ شعبہ 44 بلین درہم( تقریباً 3,344 ارب پاکستانی روپے) سے زائد مالیت کا حامل ہے اور اس میں 170 سے زائد سائنسی، قومی اور تجارتی ادارے کام کر رہے ہیں۔ اب تک متحدہ عرب امارات نے 30 سیٹلائٹس تیار اور لانچ کیے ہیں، ایک قومی خلاباز پروگرام قائم کیا ہے اور ایک سائنسی مشن کو مریخ تک پہنچایا ہے۔ آئندہ منصوبوں میں زہرہ اور کشودرگرہ پر نئے مشنز شامل ہیں۔

محمد بن راشد نے کہا کہ اگلے پانچ سالوں میں متحدہ عرب امارات خلائی شعبے میں دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرے گا۔

کابینہ کے اجلاس میں ملک کے دیگر شعبوں میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جن میں توانائی، سرمایہ کاری، اقتصادی، سفارتی اور انسانی ہمدردی کے شعبوں میں 120 سے زائد بین الاقوامی معاہدے اور تعاون کے معاہدے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی عالمی شراکت داری اور بین الاقوامی موجودگی مسلسل بڑھ رہی ہے، اور تعلقات کا دہائیوں پر محیط نیٹ ورک مضبوط ہے۔

اجلاس میں متحدہ عرب امارات کی انٹیگریٹیو میڈیسن اسٹریٹجی کو بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد صحت کے شعبے میں ایک جامع نظام قائم کرنا ہے جو روایتی اور جدید ادویات کے درمیان توازن قائم کرے۔ علاوہ ازیں، ٹیکنالوجی اور جدید اختراعات میں بین الاقوامی شراکت داری کے منصوبے بھی منظوری حاصل کر چکے ہیں۔

محمد بن راشد نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنی ترقیاتی ماڈل، مسابقت، موافقت، کھلے پن اور لچک پر فخر کرتا ہے۔ ملک کی کامیابی جدید انفراسٹرکچر، مضبوط قانونی فریم ورک، عالمی معیار کی زندگی اور حکومت کی جامع ترقی کے عزم پر استوار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی بنیادیں مضبوط رہیں گی، ترقی کا سفر جاری رہے گا اور متحدہ عرب امارات مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا۔