عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق فنڈ کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم مسٹر مسک کے وژنری کردار کے تحت حاصل کردہ اہم کامیابیوں کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم ہمیں اس ایوارڈ کے مجموعی حجم، شیئرز کی ممکنہ کمی اور کسی متبادل قیادت کے فقدان پر تشویش ہے۔
ناروے کا یہ فنڈ ٹیسلا میں 1.12 فیصد شیئرز رکھتا ہے، جن کی مالیت 17 ارب ڈالر ہے اور پہلے بھی مسک کے 2018 کے 56 ارب ڈالر کے معاوضے کے خلاف ووٹ دے چکا ہے۔
فنڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ تین میں سے دو ٹیسلا ڈائریکٹرز کی دوبارہ تقرری کی بھی مخالفت کرے گا، جن میں کیتھلین ولسن تھامپسن اور ائرا اہرنپریس شامل ہیں، تاہم جو گیبیا کے حق میں ووٹ دے گا۔
فنڈ نے ٹیسلا کے مجوزہ جنرل اسٹاک کمپنسیشن پلان کی بھی مخالفت کی ہے، جو تمام ملازمین اور بورڈ کے اراکین، بشمول مسک کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
یہ فیصلہ ٹیسلا کے شیئر ہولڈرز کے سالانہ اجلاس سے قبل سامنے آیا ہے، جو 6 نومبر کو منعقد ہوگا، جس میں اس تاریخی اور ممکنہ طور پر دنیا کے سب سے بڑے سی ای او معاوضے پر فیصلہ کیا جائے گا۔
اب تک ناروے کا ویلتھ فنڈ، جو ٹیسلا کے باہر سب سے بڑا سرمایہ کار ہے، اپنی ووٹنگ پوزیشن ظاہر کرنے والا سب سے بڑا ادارہ بن گیا ہے۔ دوسری جانب بارون کیپیٹل نے اس پیکیج کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جب کہ بلیک راک، وین گارڈ اور اسٹیٹ اسٹریٹ جیسے بڑے اداروں نے تاحال اپنا فیصلہ ظاہر نہیں کیا۔
ٹیسلا کی بورڈ چیئر روبن ڈین ہوم نے خبردار کیا تھا کہ اگر پیکیج مسترد ہوا تو ایلون مسک کمپنی چھوڑ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کا نیا ورژن متعارف کروا دیا، کیا کیا خصوصیات شامل ہیں؟
ٹیسلا کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کو کوئی معاوضہ نہیں ملے گا جب تک کمپنی کی مارکیٹ ویلیو نمایاں طور پر نہیں بڑھتی اور زیادہ سے زیادہ ایوارڈ تب ہی دیا جائے گا جب کمپنی کی مارکیٹ ویلیو 8.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا میں بڑی سرمایہ کاری کمپنیاں سیاسی دباؤ کے باعث ایسے فیصلوں میں آزادانہ کردار ادا نہیں کر پا رہیں، کیونکہ ریپبلکن سیاستدانوں نے انہیں ماحولیاتی، سماجی اور گورننس پالیسیوں پر کم توجہ دینے پر زور دیا ہے، جب کہ ایلون مسک سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔







