واٹس ایپ گھر اور دفتر کی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے، جہاں روزانہ لاکھوں لوگ میسجز، تصاویر اور اہم دستاویزات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ تاہم اکثر صارفین نئے رابطوں کے دوران اپنا ذاتی نمبر دینے میں ہچکچاتے رہے ہیں۔ اس مشکل کے حل کے لیے واٹس ایپ نے ’یوزر نیم‘ کا فیچر متعارف کرایا ہے۔

کمپنی کے مطابق صارفین اب اپنا موبائل نمبر بتانے کے بجائے صرف اپنا یوزر نیم دے کر رابطے میں رہ سکیں گے۔ سامنے والا شخص یوزر نیم کے ذریعے ہی واٹس ایپ پر رابطہ کر سکے گا، تاہم وہ صارف کے فون نمبر پر براہِ راست کال یا ٹیکسٹ میسج نہیں کر سکے گا، کیونکہ اس کے پاس اصل نمبر تک رسائی نہیں ہو گی۔

اس فیچر سے استفادہ کرنے کے لیے صارفین کو اپنے فون میں واٹس ایپ کا تازہ ترین ورژن انسٹال کرنا ہوگا۔ اس کے بعد سیٹنگز میں اکاؤنٹ کے سیکشن میں جا کر یوزر نیم کی درخواست دی جا سکتی ہے۔ کمپنی نے واضح کیا کہ یوزر نیم رکھنا لازمی نہیں اور صارفین چاہیں تو پہلے کی طرح اپنے فون نمبر کے ذریعے ہی ایپ استعمال کرتے رہیں۔

واٹس ایپ کے مطابق یوزر نیم زیادہ سے زیادہ پینتیس حروف پر مشتمل ہو سکتا ہے اور صارفین کسی بھی وقت اپنا یوزر نیم تبدیل یا حذف کر سکتے ہیں۔

کمپنی نے یہ بھی واضح کیا کہ معروف شخصیات اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے نام عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے، تاکہ جعل سازی اور دھوکہ دہی کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی صارف اپنے لیے کسی مشہور سیاستدان یا عالمی رہنما کے نام پر یوزر نیم نہیں بنا سکے گا۔

پرائیویسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے واٹس ایپ نے اس فیچر کو صارفین کی پرائیویسی بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد انفرادی فون نمبر واٹس ایپ پر نظر نہیں آئے گا، تاہم اکاؤنٹ بنانے کے لیے بدستور نمبر کی ضرورت رہے گی۔ ہر یوزر نیم منفرد ہوگا، یعنی ایک نام صرف ایک ہی صارف استعمال کر سکے گا اور اگر منتخب کردہ نام پہلے سے موجود ہو تو ایپ فوری طور پر آگاہ کر دے گی۔

سیکیورٹی کے پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کمپنی نے بتایا کہ کسی بھی اکاؤنٹ کے ایک ساتھ نئے رابطوں کی تعداد محدود رکھی جائے گی، جب کہ خودکار نظام مشکوک رویوں کی نشاندہی کر کے متعلقہ اکاؤنٹس کو بلاک کر سکتا ہے۔ صارفین کے پاس ایپ کے اندر شکایت درج کروانے کی سہولت بھی موجود ہوگی۔

واٹس ایپ کے مطابق یہ سہولت واٹس ایپ بزنس پر بھی دستیاب ہوگی، جس سے کاروباری حضرات کو اپنی پرائیویسی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ کمپنی نے بتایا کہ یہ فیچر آنے والے چند مہینوں میں مرحلہ وار دنیا بھر کے تقریباً تین ارب صارفین کے لیے دستیاب ہو جائے گا۔

بعض صارفین نے شکایت کی کہ یہ فیچر ابھی ان کے فون پر نظر نہیں آ رہا، جس پر کمپنی نے کہا کہ آئندہ ایک دو دن یا اسی ہفتے میں یہ سہولت تمام صارفین کو دستیاب ہو جائے گی اور انھیں اپنا ایپ مسلسل اپڈیٹ رکھنے کی تلقین کی۔ 

دوسری جانب وہ صارفین جنھوں نے پہلے ہی اپنا یوزر نیم منتخب کر لیا، انھوں نے سوشل میڈیا پر اس نئے فیچر پر خوشی کا اظہار بھی کیا۔