تفصیلات کے مطابق مجوزہ پالیسی کے تحت حکومت آٹو سیکٹر میں بڑے پیمانے پر اصلاحات لانے کی تیاری کر رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد درآمدی ٹیرف میں بتدریج کمی اور مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ دینا ہے۔

منصوبے کے مطابق پاکستان گاڑیوں کی درآمد پر اوسط ٹیرف 10.6 فیصد سے کم کر کے 2030 تک 7.4 فیصد تک لانے کا ہدف رکھتا ہے، جب کہ دہائی کے آخر تک مجموعی نیٹ اوسط ٹیرف کو تقریباً 6 فیصد تک کم کرنے کی تجویز ہے۔

ابتدائی مرحلے میں مالی سال 2026–27 کے بجٹ میں ٹیرف میں کمی متوقع ہے، جس کے بعد مختلف اقسام کی گاڑیوں پر 0 سے 15 فیصد تک ٹیرف سلیب متعارف کروائے جا سکتے ہیں۔

پالیسی کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں پر عائد 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی 30 جون 2026 تک برقرار رہے گی، جس کے بعد اسے مرحلہ وار کم کر کے مالی سال 2029–30 تک ختم کرنے کی تجویز ہے۔

حکومتی منصوبے میں آٹو پارٹس پر ڈیوٹی میں 50 فیصد تک کمی اور مقامی صنعت کو زیادہ مسابقتی بنانے کے لیے کارکردگی پر مبنی مراعات دینے کی حکمت عملی بھی شامل ہے۔

پالیسی کے مطابق حکومت کا ہدف ہے کہ گاڑیوں کی سالانہ پیداوار 5 لاکھ یونٹس سے زائد تک بڑھائی جائے اور برآمدات کو موجودہ 30 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 3 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ الیکٹرک وہیکلز پالیسی 2025–30 کے تحت مقامی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے بھی خصوصی مراعات دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ اگر یہ پالیسی منظور ہو جاتی ہے تو پاکستان کے آٹو سیکٹر میں گزشتہ کئی برسوں کے بعد ایک بڑا پالیسی ری سیٹ دیکھنے کو مل سکتا ہے، تاہم اس وقت صورتحال  ویٹ اینڈ واچ  کی ہے۔