ڈان نیوز کے مطابق یہ سیٹلائٹ چین سے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجا گیا، جو سیلاب، لینڈ سلائیڈز اور دیگر قدرتی آفات کی پیشگوئی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ نظام ماحولیاتی تبدیلیوں، ارضیاتی خطرات اور زمین کی نگرانی کے حوالے سے بھی قیمتی معلومات فراہم کرے گا، جبکہ شہری منصوبہ بندی اور انفرااسٹرکچر میپنگ کے لیے نئی راہیں کھولے گا۔
سیٹلائٹ کی کامیاب لانچ پر پاکستانی سائنس دانوں اور انجینئرز نے خوشی کا اظہار کیا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔
یہ مشن پاکستان کی قومی خلائی پالیسی اور وژن 2047 میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ سال 2025 میں خلا میں بھیجا جانے والا یہ پاکستان کا تیسرا سیٹلائٹ ہے۔
لانچ کی تمام تیاریوں کی نگرانی پاکستانی ماہرین کی موجودگی میں کی گئی۔ ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ قدرتی آفات کی پیشگوئی اور ان سے نمٹنے میں مدد کے لیے ایک جدید ترین نظام فراہم کرے گا۔
اس سے قبل جنوری 2025 میں ’ای او ون‘ اور جولائی 2025 میں ’کے ایس ون‘ سیٹلائٹس کامیابی سے خلا میں بھیجے جا چکے ہیں، جو اس وقت مکمل طور پر فعال ہیں۔
ایچ ایس ون کی لانچ کے ساتھ ہی پاکستان کا خلائی پروگرام ٹیکنالوجی کے ایک نئے اور ترقی یافتہ دور میں داخل ہو گیا ہے۔







