یہ تقریب وزیرِ اعظم آفس اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ سمیت اعلیٰ سرکاری حکام اور گوگل کی علاقائی قیادت نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کروم بُک اسمبلی لائن کے آغاز کو ایک انقلابی قدم قرار دیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور تعلیم کو یکجا کرتا ہے اور حکومت کا عزم ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔

اس موقع پر گوگل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا کہ گوگل کئی برسوں سے پاکستان کے ڈیجیٹل سفر کا حصہ رہا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ الائیڈ، این آر ٹی سی اور ٹیک ویلی کے اشتراک سے کروم بُک کی مقامی تیاری پاکستان میں تعلیم کے شعبے کی ڈیجیٹل تبدیلی میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔

 فرحان قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تیار کردہ کروم بُکس تیارکر کے ہم اعلیٰ معیار کی، محفوظ اور کم قیمت ڈیوائسز مہیا کر رہے ہیں، جو اساتذہ، طلبہ، ڈیولپرز اور تخلیق کاروں کے لیے ڈیجیٹل مہارت کے پروگراموں کو مزید مؤثر بنائیں گی۔

فرحان قریشی نے مزید بتایا کہ تعلیم میں  ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت سے ملک میں مہارتوں کے فرق کو کم کیا جا سکے گا اور 2030 تک پاکستان کے سالانہ جی ڈی پی میں 28 کھرب روپے کا اضافہ ممکن ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف مقامی طلب پوری کرے گا بلکہ برآمدات کے لیے راہ ہموار کرے گا، جس سے پاکستان ایک اہم ہارڈویئر ایکسپورٹر کے طور پر اُبھرے گا۔

ٹیک ویلی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر عمر فاروق نے کہا کہ ان کی مہم کا مقصد پاکستان کے ہر نوجوان کے لیے ڈیجیٹل مواقع کے دروازے کھولنا ہے۔ کم لاگت ڈیوائسز کی مقامی تیاری سے اب اعلیٰ معیار کی ڈیجیٹل تعلیم عام طلبہ کی دسترس میں آ سکے گی۔

وزارتِ آئی ٹی اور گوگل کی یہ شراکت ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ ترقی کے نئے دور کی بنیاد رکھتی ہے۔ اس کے تحت سال 2025 تک ایک لاکھ گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس فراہم کیے جائیں گے، ایک اے آئی اسکیل لیب قائم کی جائے گی جو ایک لاکھ سے زائد ڈیولپرز کو تربیت دے گی اور گیمنگ انڈسٹری کے لیے جامع پالیسی فریم ورک تیار کیا جائے گا۔

اسی منصوبے کے تحت پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ کے ذریعے ورکشاپس، مینٹورشپ اور گوگل کلاؤڈ سپورٹ فراہم کی جائے گی۔ عوامی فلاح کے لیے اے آئی لیڈرز فیلوشپ پروگرام کے ذریعے 100 پاکستانی اداروں کو مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت دی جائے گی، جب کہ ایمرجنسی لوکیشن سروسز  کے ذریعے ہنگامی حالات میں عوامی ردعمل کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

اس منصوبے کے تحت ہری پور میں قائم فیکٹری میں ماہانہ 50 ہزار کروم بُک تیار کیے جائیں گے، جب کہ سالانہ ہدف پانچ لاکھ یونٹس رکھا گیا ہے، جو آئندہ برسوں میں بڑھ کر 10 لاکھ تک پہنچ جائے گا۔ اس اقدام سے ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی، مقامی صنعت مضبوط ہوگی اور ٹیکنالوجی کی برآمدات کے نئے امکانات جنم لیں گے۔

یہ منصوبہ گوگل کے ان جاری پروگراموں کا تسلسل ہے، جن کے تحت اب تک 10 لاکھ سے زائد پاکستانیوں بشمول اساتذہ، طلبہ، ڈیولپرز اور تخلیق کاروں کو ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔