سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کیٹلن کیلینوسکی نے لکھا کہ اوپن اے آئی نے پینٹاگون کے خفیہ کلاؤڈ نیٹ ورکس پر اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تعیناتی پر اتفاق کرنے سے پہلے مناسب وقت نہیں لیا۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ مصنوعی ذہانت کا قومی سلامتی میں اہم کردار ہے، تاہم عدالتی نگرانی کے بغیر امریکی شہریوں کی نگرانی اور انسانی اجازت کے بغیر مہلک خودکار نظام ایسے معاملات ہیں جن پر زیادہ سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تبصرے کے لیے فوری طور پر کیٹلن کیلینوسکی سے رابطہ نہیں ہو سکا، تاہم انہوں نے ایکس پر لکھا کہ اگرچہ وہ اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹ مین اور کمپنی کی ٹیم کے لیے گہرا احترام رکھتی ہیں، لیکن کمپنی نے پینٹاگون کے ساتھ معاہدے کا اعلان بغیر واضح حفاظتی اصولوں کے کر دیا۔

بعد ازاں ایک اور پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ یہ سب سے بڑھ کر گورننس سے متعلق تشویش ہے اور ایسے معاملات میں شفاف اصول اور ضابطے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔

اوپن اے آئی نے معاہدے کے اگلے دن کہا تھا کہ اس میں استعمال کے طریقہ کار کو محفوظ بنانے کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

کمپنی نے ہفتے کے روز ایک بار پھر واضح کیا کہ اس کی پالیسی کے مطابق اس کی ٹیکنالوجی کو گھریلو نگرانی یا خودکار ہتھیاروں کے نظام میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

کمپنی نے رائٹرز کو جاری بیان میں کہا کہ وہ تسلیم کرتی ہے کہ ان معاملات پر لوگوں کی مضبوط آرا موجود ہیں اور اوپن اے آئی دنیا بھر میں اپنے ملازمین، حکومتوں، سول سوسائٹی اور مختلف کمیونٹیز کے ساتھ اس موضوع پر مکالمہ جاری رکھے گی۔

کیٹلن کیلینوسکی نے 2024 میں اوپن اے آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس سے قبل وہ میٹا پلیٹ فارمز  ہارڈویئرز کی قیادت کر چکی ہیں۔