مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات پاکستان پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ ملک میں پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ 18 فیصد اضافے نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق راولپنڈی اور دیگر شہروں میں الیکٹرک بائیکس کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بعض ڈیلرز کا کہنا ہے کہ مارچ میں فروخت میں 70 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ مستقبل میں پیٹرول کی دستیابی مزید مشکل ہو سکتی ہے، جس کے باعث وہ متبادل ذرائع کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق الیکٹرک دو پہیوں والی گاڑیاں اب ماہانہ فروخت کا 10 فیصد سے زائد حصہ بن چکی ہیں، جبکہ گزشتہ سال ان کی فروخت تقریباً تین گنا بڑھ کر 90 ہزار یونٹس تک پہنچ گئی تھی۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے متعارف کرائی گئی اسکیم کو غیر معمولی پذیرائی ملی ہے،اس اسکیم کے لیے موصول ہونے والی درخواستیں مقررہ ہدف سے سات گنا زیادہ ہو چکی ہیں۔ اس منصوبے کے تحت شہریوں کو سبسڈی اور بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ آسانی سے الیکٹرک بائیکس خرید سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سستی شمسی توانائی کی دستیابی الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، کیونکہ اس سے چارجنگ کے اخراجات میں نمایاں کمی ممکن ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چینی برانڈز کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے باوجود اگر فروخت کے بعد سروس کا مناسب نظام نہ بنایا گیا تو صارفین کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ دو اور تین پہیوں والی گاڑیاں سڑکوں پر موجود ہیں، جو ملک کے 40 فیصد پیٹرول کا استعمال کرتی ہیں، ایسے میں الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی معیشت اور ماحول دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔