چینی کمپنی ایگی بوٹ کے مطابق اے 2 نے اپنی سفر کا آغاز 10 نومبر کو مشرقی چین کے صوبہ جیانگسو کی خوبصورت جنجی جھیل سے کیا اور 13 نومبر کو شنگھائی کے مشہور بنڈ پر اپنی منفرد سفر مکمل کی۔ اس دوران وہ شہری سڑکوں، ایکسپریس ویز، پلوں، ڈھلوانوں اور مختلف راستوں سے انتہائی توازن کے ساتھ گزرتا رہا۔
کمپنی کے مطابق یہ کارنامہ ہاٹ سویپ ایبل بیٹری سسٹم کی بدولت ممکن ہوا جس نے روبوٹ کو ایک لمحہ رُکے بغیر مسلسل چلتے رہنے کی صلاحیت دی۔
ایگی بوٹ کے سینیئر نائب صدر وانگ چوانگ نے اس کامیابی کو پائیداری، توازن اور تکنیکی بلوغت کی زندہ مثال قرار دیا۔ دو صوبوں کے درمیان بغیر رکے چلنا بہت سے انسانوں کے لیے بھی مشکل ہو سکتا ہے مگر اے 2 نے یہ مرحلہ غیر معمولی استقامت کے ساتھ طے کیا۔
5.74 فٹ لمبا اور 55 کلوگرام وزنی یہ روبوٹ جدید اے آئی پر مبنی سینسنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہے جو ٹیکسٹ، آڈیو اور بصری معلومات کو سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ سوئی میں دھاگا ڈالنے جیسے باریک کام بھی انجام دے سکتا ہے جو اس کے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دونوں کی مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔
مزید یہ کہ اپنے سفر کے دوران اس نے ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کی اور 100 کلومیٹر سے زائد مسلسل چلنے کے بعد بھی روبوٹ مکمل طور پر بہترین حالت میں تھا جو خودکار مشینوں کی مستقبل کی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
واضع رہے کہ اس نے راستے کی درست نشاندہی کے لیے ڈوئل GPS ماڈیولز اور لیڈار سنسرز استعمال کیے۔






