ذرائع کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے توانائی کے شعبے، خصوصاً کلین اور گرین انرجی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے تحت ملک میں بیٹریوں کی مقامی سطح پر پیداوار شروع کی جائے گی، جس سے نہ صرف درآمدی انحصار میں کمی آئے گی بلکہ توانائی کے ذخیرے کے جدید حل بھی دستیاب ہوں گے۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینا اور شمسی و دیگر متبادل توانائی کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے،اس سرمایہ کاری سے ملک کے تیزی سے بڑھتے ہوئے توانائی کے شعبے میں نئی راہیں کھلیں گی اور روزگار کے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ڈائنیس کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کو عالمی سطح پر مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان کی توانائی مارکیٹ میں موجود امکانات اور ترقی کی صلاحیت پر بڑھتا ہوا اعتماد رکھتی ہیں۔
منصوبے کے تحت جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی متوقع ہے، جس سے مقامی صنعت کو فائدہ پہنچے گا اور پاکستان میں توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کے شعبے میں جدت آئے گی۔
واضح رہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو پاکستان نہ صرف اپنی توانائی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کر سکے گا بلکہ خطے میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک اہم مقام بھی حاصل کر سکتا ہے۔







