ڈالیان جنژوووان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو جنژوو بے میں تعمیر کیا جا رہا ہے اور یہ چین کا پہلا ہوائی اڈہ ہوگا جو سمندری پانیوں کے اوپر قائم ایک مصنوعی جزیرے پر بنایا جا رہا ہے۔

7.7 مربع میل رقبے پر پھیلا یہ ایئرپورٹ جزیرہ اپنے حجم اور منفرد ڈیزائن کی وجہ سے پہلے ہی دنیا بھر کی توجہ حاصل کر چکا ہے۔ تاہم اس منصوبے کی اصل اہمیت صرف اس کے بڑے رقبے میں نہیں بلکہ اس مقصد میں ہے کہ گنجان آباد شہر کے تجارتی اور سفری راستوں کو مزید مؤثر بنایا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ ایک مکمل بین الاقوامی ہوائی اڈہ سمندر کے اوپر تعمیر کیے گئے جزیرے پر بھی کامیابی سے کام کر سکتا ہے۔

ڈالیان شہر میں پہلے سے ایک ہوائی اڈہ موجود ہے، تاہم اس کا محلِ وقوع شہر کے مرکز کے بہت قریب ہے، جس کے باعث ٹریفک، شور، محدود فضائی حدود اور توسیع کے لیے جگہ کی کمی جیسے مسائل درپیش ہیں۔

اسی وجہ سے جنژوووان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر شروع کی گئی ہے اور مرکزی ہوائی اڈے کو سمندر میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ رن ویز، کارگو سہولیات، سڑکوں کے رابطوں اور مستقبل میں توسیع کے لیے درکار جگہ باآسانی دستیاب ہو سکے۔

فی الحال منصوبے کے پہلے مرحلے میں دو رن ویز اور ایک ٹرمینل کی تعمیر جاری ہے، جہاں سالانہ 4 کروڑ 30 لاکھ مسافروں کی آمدورفت اور 3 لاکھ 30 ہزار پروازوں کی گنجائش ہوگی۔

طویل المدتی منصوبے کے تحت اس ہوائی اڈے میں چار رن ویز تعمیر کی جائیں گی، جب کہ مرکزی ٹرمینل 97 لاکھ مربع فٹ رقبے پر مشتمل ہوگا اور سالانہ 8 کروڑ مسافروں کو سہولت فراہم کر سکے گا۔

تقریباً 7.5 ارب ڈالر لاگت کے اس منصوبے کے پہلے مرحلے کا 37 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ اس وقت ساڑھے تین ہزار سے زائد کارکن اور ماہرین سمندر کی سطح پر اس عظیم منصوبے کی تعمیر میں مصروف ہیں۔

ایئرپورٹ کے ستون 82 فٹ گہرے پانی میں نصب کیے جائیں گے، جب کہ مصنوعی جزیرے کی تعمیر کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ مکعب گز تعمیراتی مواد درکار ہوگا۔

منصوبے کے تحت مصنوعی جزیرے پر 850 درخت بھی لگائے جائیں گے۔ توقع ہے کہ اس جدید ہوائی اڈے پر فضائی آپریشنز کا آغاز 2035 میں کیا جائے گا۔